AJK Elections: Turnout Too Low || Great Public Welcome of Aleema Khan || Imran Riaz Khan VLOG
بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ناظرین آپ یوٹیوب چینل دیکھ رہے ہیں میں عمران خان ہوں نکلا آہ دوسری جب جو احتجاج ہو رہا ہے وہ تو جاری ہے کوشش کی جاری ہے کہ آج کا دن منیج کیا جائے کچھ بھی کر کے اور دوسرے مرلے کے انتخاب کے بھی نتائج کا اعلان کیا جائے پھر تیسرا مرلہ کسی طرح نمٹا کے اور پھر ایک ایسی حکومت بنا دی جائے جو کٹ پتلی حکومت ہو جو سیکٹر کمانڈر کے کہنے کے اوپر چلے کوئی ایک کرنل یا کوئی ایک میجر کوئی بھی ایک حکم لے کر آ جائے تو فوری طور پہ اس حکم کے اوپر عمل درامت لبے لباب یہ ہے اس الیکشن کا لیکن کشمیریوں نے اس کو مکمل طور پہ رد کر دیا مسترد کر دیا لوگ نہیں نکلے ووٹ ڈالنے کے لیے یہ بہت سارے پولنگ سٹیشنز کی لسٹ ہے میرے پاس جو میں نے وہاں آزاد کشمیر سے جو سورسز ہیں ان سے اکٹھی کی ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو کہیں پہ سات ووٹ پڑتے ہیں کہیں پہ چھے ووٹ پڑتے ہیں کہیں پہ ووٹی نہیں پڑتے ایک پولنگ سٹیشنز کے میں ویجوالز دیکھ رہا تھا وہاں جو پولنگ کروان اب یہاں سے آپ اندازہ کریں کہ وہ اتنے ویل ہیں کہ آج ووٹ ڈالنے ہی کوئی نہیں آیا سیکیورٹی باہر کھڑی ہوئی ہے ووٹ ڈالنے لوگ آئے نہیں عملا اندر سو رہا ہے پنکھے چلاہا کے مزے سے ازاد کشمیر میں تو یہ سورتیال کیوں بنی کیونکہ لوگوں نے اس الیکشن کو مکمل طور پر
مسترد کر دیا ہے اب ناظرین نون لیگ نے اس مرتبہ ایک چیز تھوڑی سی اچھی اور اکل بندی والی کی کہ انہوں نے مینج کیا کہ اپنے کچھ ویجوال بنا سکے صبح کے وقت میں نے آپ کو بتایا تھا پچھلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ نے نون لیگ کی ڈیوٹی لگائی تھی لیکن نون لیگ نے وہ ڈیوٹی پوری نہیں کی لیکن اس مرتبہ انہوں نے یہ اچھا کیا کہ صبح کے وقت اپنے کارکنوں کو اکٹھا کر کہ آپ یہ ویجوالز چلائیں تاکہ یہ تاثر جائے کہ آزاد کشمیر میں لوگ نکل کر ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن جب ریپورٹرز نے ریپورٹ کیا تو صورتحال بلکل مختلق تھی کئی ریپورٹرز یہ بتاتے ہیں کہ سات گھنٹے پولنگ کو ہو گئے وہ دو ریپورٹرز ایک ہی جگہ بھی موجود تھے انہوں نے کہا جی ہم سارے حلکے پھرتے رہے ہم نے جا جا کے دیکھا پتا کیا وہاں پہ پہلا ووٹر بھی نہیں پہنچا چھ سات گھنٹوں کے اندر اچھا جو ایک پولنگ سٹیشن کا رزلٹ آیا جہاں پہ سترہ امیدوار تھے امیدوار سترہ ہیں اور ووٹ ایک بھی نہیں پڑھا یہ اس قسم کے الیکشن ہو رہے ہیں اب یہ الیکشن آپ لے جائیں گے یون کے اندر کہ آپ کہیں گے ہم نے آزاد کشمیر میں الیکشن کروا دیا ہے اور وہ آپ کو کہیں گے یہ بڑی اچھی بات ہے آپ نے الیکشن کروا دیا ہے آزاد کشمیر میں یہ الیکشن آپ یورپی یونین میں لے جائیں گے عالمی سطح پہ لے جائیں گے اس الیکشن کی بنیاد پہ آپ یہ کلیم کریں گے کہ بھارت ب جو سردار امان کشمیری کا ایک سکیٹ وڈیو، اچھا رزلٹ جو آئیں گے وہ ہم آپ کو بتا دیں گے نیکسٹ وی لوگ میں، ویسے ہم آپ کو پہلی بتا دیتے ہیں کہ نون لیو اور پیپس پارٹی کو ہی جتوانا ہے انہوں نے، انہیں کو سیٹے آپ اپنے بانڈ دینی ہے، جو زیادہ اچھے جوتے پالش کرے گا اس کو زیادہ سیٹے مل جائیں گی، اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے، وہاں پے کیونکہ دیکھیں میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جو برگیڈیر ف
نامی آفیسر وہاں پہ تائینات ہے آزاد کشمیر میں بطور سیکٹر کمانڈر آئی اے سائی یہ نوازشریف سے بہت عشق کرتا ہے بہت پیار کرتا ہے نوازشریف سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نوازشریف کی فیملی کے اندر کئی لوگ ان سے اتنا عشق اور اتنا پیار نہیں کرتے ہوں گے جتنا برگیڈیر فائک کو نوازشریف سے عشق اور پیار ہے اور اس کا اظہار اس نے میرے سامنے تب کیا جب میں آئی اے سائی کی ق برگیڈیو فائق کو بہت عشق ہے نواز شریف سے مجھے نہیں لگتا وہ نواز شریف کو مایوس کرے گا وہاں مدفرہ باد والے ڈیویجن کی الیکشن میں ایسا نہیں وہ کرے گا اب یہ ایک سردار امان کشمیری ہے انہوں نے جو سٹیٹمنٹ دیا وہ سٹیٹمنٹ میں بھی پہ لکھا ہوا ہے انہوں نے کہا یہ اب دو ہی طریقے باقی ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم سارے لوگ آگے بڑھتے رہیں یعنی مدفرہ باد کی طرف جائیں آگے بڑھیں اور اتجاج کو شدت لے کر اور جب ہم پہنچ جائیں گے تو بچیں گے حکمران بھی نہیں یہ بات سردار امان کشمیری نے کہا اور دوسرا رستہ وہ نے کہا دوسرا رستہ یہ ہے کہ آپ ری الیکشن کروائیں لوگوں کو موقع دیں لوگ اپنی حکومت خود منتخب کریں اپنی حکومت خود بنائیں فیئر الیکشن ہونا ازاد کشمیر میں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی مرتبہ دیورنگ الیکشن ہی یہ مطالبہ سامنے آ گیا کہ ری الیکشن کروائے جائے اور فیئر گیم کی جائے ازاد کشمیر میں سب کو موقع دیا جائے ج یہ بات آج سردار امان کشبیری نے اس وقت کہی جب الیکشن کا میڈ آیا ہوا ہے ایک مرحلہ ہو گیا ایک مرحلہ باقی ہے اور بیچ والا مرحلہ چل رہا ہے تو الیکشن کے بالکل میڈ میں انہوں نے یہ بات کی کہ ری الیکشن کروا ہو اور آپ میری بات لکھ کر رکھیں ہیں آزاد کشبیری
میں جب تک ری الیکشن نہیں ہوگا تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا الٹا لٹک جائے سیدھا لٹک جائیں جو مرضی کریں جتنا مرضی زور لگائیں آزاد کشمیر میں ری الیکشن انہیں کروانا پڑے گا اور دوسری بات جو انہیں کہی کہ ہم آدھے مر جائیں گے تو اس کا کیا مطلب ہے کشمیری جو ہیں نا یہ بھاگتے بھوکتے نہیں ہیں انہیں گولیاں مارتے یہ فوج یہ واپس اپنے گھر میں جا کے چھپ نہیں یہ اپنے زخمیوں کو اسپتالوں میں چھوڑ کے آتے ہیں اپنے شہیدوں کو دفنہ کے آتے ہیں پھر آکے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب گھمسان کی لڑائی چل رہی ہوتی ہے نا گولیاں چل رہی ہیں وہاں پہ لڑائی کیا ہے وہ حملہ ہی ہو رہا ہوتا ہے سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جب بڑا خوفناک کریک ڈاؤن بھی ہوتا ہے اس وقت بھی ان کے نوجوان آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں میں نے ویڈیوز دیکھی ہے کہ نسیح جناح کہ بھاگنا نہیں ہے آپ بارال اس دفعہ نون لیگ نے تھوڑا بہت ویجولز بنائے لیکن ترناؤٹ جو ہے وہ دس فیصد بھی نہیں بتایا جا رہا ہے دس فیصد کے آس پاس ہے شام تک یہ ترناؤٹ آپ دیکھیں گے پچاس فیصد سے بھی اوپر چلا جائے گا اور جالی فارم فورٹی سیون جاری کر دیے جائیں گے موسن نکوی کے بیانات میں ایک مسئیبت عجیب سی ڈالی ہوئی ہے موسن نکوی کے سٹیٹمنڈ کا ایک حصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے یہ نظام تب تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک کہ فیلڈ مارشل یا آرمی چیف امریکہ سے تعلقات بنانا بند نہیں کرتےکسی آرمی چیف کا فیلڈ مارشل کا کسی سرکاری ملازم کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ جائے اور جا کے ایک دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات بنائے تعلقات ہمیشہ دو ملکوں میں بنتے ہیں جو افراد کے تعلقات ہوتے ہیں وہ افراد کے مرنے کے بعد یا ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد یا ان کے ریٹائر ہونے کے بعد یا ان کے حکومت سے نکلنے کے بعد وہ تعلقات ختم ہو جاتے ہیں امریکہ کے ساتھ ریاست پاکستان کو ڈیل کرنا ہے اپنے فارن آفیس کے ذ جو گورمنٹ آف پاکستان ہے انہوں نے امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا ہے اپنی پولیسی کے مطابق ڈیل کرنا ہے فیلڈ مارشل کے تعلقات کا ہمیشہ ہمیں نقصان ہوا ایک یہ تو اعتراف کیا محسن نقوی نے کہ فیلڈ مارشل نے امریکہ سے اپنے اچھے تعلقات بنا لیا ہے اور یاد رکھی گا جب بھی کسی جرنیل نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے ہیں پاکستان نے اس کی قیمت چکائی ہے ایوب خان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تھے پ میڑا گھرک کیا پاکستان کے سارے جمہوری کلچر کا یایا خان کی امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے پاکستانی دو ٹکڑے کر دیا ہے انہوں نے پھر بڑے اچھے تعلقات امریکہ کے ساتھ جو زیولک کے تعلقات تھے وہ کسی کے بھی نہیں تھے امریکن پاونت ہو گئے پیتے تھے زیولک کے اور زیولک کے دیوے توفے پاکستان آج بھی بھوگت رہا ہے کلاشن کوف ہو گئی منشیات ہو گئی جہاد ہو گیا جنگ ہو گئی آگ لگی ہوئی ہے وہ سارا تب سے ہم امریکہ اس سے بھی بڑا رادی تھا اور پاکستان کی جب کبھی کسی جرنیل کے تعلقات امریکہ کے ساتھ بنے ہیں نا اس کا نقصان ہمیشہ پاکستان کو ہوا ہے آج یہ فیلڈ مارشل نے امریکہ کے ساتھ ذاتی تعلقات بنا لی ہے نا پاکستان کو لگتار نقصان ہو رہا ہے ہماری فوج جو ہے وہ یمن کے بارڈر پہ کھڑی ہے یہ دعویٰ سامنے آگیا ہےاس کی تفصیلات میں آپ کو بتاؤں گا کیونکہ یہ یمن کے جو ایران کے اندر سفیر ہیں انہوں نے یہ پیغام دیا ہے پاکستان میں کچھ لوگوں کو جن میں علامہ راجہ ناصر باز صاحب کا نام لیا جارہا تھا بتایا یہ گیا ہے کہ پاکستانی فوجی یمن کے خلاف سعودی عرب کی طرف سے جنگ لڑ رہے ہیں یا لڑنے کے لیے بھیجوا دئیے گئے ہیں اور تیاریاں پوری ہیں یہ بڑی الارمنگ سچویشن بہ قوم کو یہ بھی نہیں پتا کہ آپ نے سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ کیا کطر کے ساتھ کیا معاہدہ کیا آپ کس ملک کے ساتھ کیا بات کرنے جا رہے ہیں یہ بورڈ آف پیس جسے بورڈ آف نیتن یاہو بھی کہتے ہیں اس بورڈ کے اندر کیا چل رہا ہے قوم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تو اگر پاکستان کا نظام آپ نے ٹھیک کرنا ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیں اور امریکہ کے ساتھ وہ اپنے تعلقات نہ رکھ تو وہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو زیادہ بہتر ہے نواز شریف کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف اب معاملات اپنے ہاتھ میں انہوں نے لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن میاں نواز شریف معاملات کیا اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں ہم نے کئی دفعہ اس بارے میں امید بھی ظاہر کی ہمیں لگا کہ شاید نواز شریف معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں کوئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ معاملہ قطع کریں وہ یہ سوچیں کہ یار اسٹیبلشمنٹ نے بیڑا غلط کر دیا پ تو وہ ہاتھ میں معاملات نہیں لیتے میاں صاحب میاں صاحب ہاتھ میں برش لیتے ہیں اور پھر دوسرے ہاتھ میں پالش لیتے ہیں اور پھر چمکائی شروع کردیتے ہیں بوٹوں کی میاں صاحب نے معاملات سنبھالنے کی بجائے ہمیشہ بوٹ سنبھالا ہے ابھی تک کا جو منظر نامہ ہم دیکھ رہے ہیں اس میں تو یہ ہوا
میاں صاحب نے معاملات کو کنٹرول کرنے کی وجہ پالش کو کنٹرول کیا ہے. میاں صاحب معاملات ہاتھ میں نہیں لیتے برش ہاتھ میں لیتے ہیں. جو ہم نے دیکھا اور جو ہمیں سمجھ آئی. لیکن پھر بھی میں یہ کہوں گا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے. ہمیں میاں نواز شریف سے یہ امید کرتے رہنا چاہیے کہ شاید کسی دن میاں صاحب کے اندر سے کوئی انقلاب جب بیڑے ہی گرگ ہو جائے گا نا اسٹیبلشمنٹ کا تب میاں صاحب کہیں گے ٹھیک ہے اس لڑائی میں میں بھی عصا بنتا ہوں کیونکہ جب تک میاں صاحب کو یہ لگتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ میں طاقت باقی ہے اور یہ مجھے اور میری بیٹی کو اور میرے بھائی کو جیلوں میں بھی ڈال سکتے ہیں اقتدار سے بھی نکال سکتے ہیں ہماری کرپشن بھی پکڑ سکتے ہیں تو تب تک میاں نواز شریف صاحب نے کسی قسم کا معاملہ ہاتھ میں نہیں پکڑنا میاں صاحب نے تب تک میری ان سے گذارش ہے کہ میاں صاحب کے گھوبارے میں ہوا بھرتے رہا کریں کوشش کرتے رہا کریں میاں صاحب کو جگانے کی میاں صاحب کو اٹھانے کی میاں صاحب کو جوش دلانے کی تو آپ کوشش جاری رکھیں ہو سکتا ہے میاں صاحب کھڑے ہو جائیں ادھر جو عمران خان صاحب ہیں انہوں نے تو کھڑے ہو کر دکھایا شاید میاں صاحب کسی دن کھڑے ہو جائیں بھارت خواجہ عاصف کی ڈیوٹی لگائی ہے خواجہ عاصف نے اب وہ سٹیٹمنٹ دینا شروع کیے جن خواجہ آصف کی وزارت جا رہی تھی یہ خبریں ہمیں کچھ عرصہ پہلے ملنا شروع ہو گئی تھی اور یہ سوشل میڈیا پہ آ بھی گیا تھا پھر جب خواجہ آصف صاحب نے بڑا بڑا برش پکڑانا فیلڈ مارشل آصف مونیر صاحب کے بھوٹ پالش کرنے کے لیے تو ہمیں اندازہ ہوا کہ واقعی ان کی وزارت خطرے میں ہے یہ ہر تھوڑے دن کے بعد خواجہ آصف صاحب تعریف کرتے تھے فیلڈ مارشل آصف مونیر کی اور سابر شاکر بھائی
میں اور دو چار اور دوست ہیں مہید پیرزادہ ہم سارے یہ کہتے تھے جو باقیستان سے باہر ہیں کہ خواجہ صاحب اپنی نوکری بجانے کی کوشش کر رہے ہیں بہت چلاک ہیں تو خواجہ صاحب نے اپنی نوکری لی بھی ایسی ہے نا ایک دفعہ جنرل باجوا کی منتیں کی ان کے سسر کے جا کے پاس بیٹھ گئے وہ خود بتایا اور انہیں کہ میں نے کیسے اپنی وزارت لی وہ ایمینشپ پھر اس دفعہ انہیں کیسے لی وہ اب یہ خواجہ آصف کو موقع مل گیا کہ آسم منیر کا خاص آدمی ہے محسن نقوی تو اگر میں محسن نقوی پہ تنقید کروں گا تو پھر آسم منیر کے لیے مشکل ہو گا مجھے ودارت سے نکالنا کیونکہ اگر آسم منیر نے مجھے ودارت سے نکال دیا تو رولہ یہ پڑ جائے گا کہ محسن نقوی کے چکر میں کیونکہ خواجہ آصف نے تنقید کی تھی محسن نقوی پہ اور جواب دیا تھا محسن نقوی کو لہذا جنرل آسم منیر نے خواجہ آصف کو نوکری سے نکل لیکن وہ باس آسیم منیر یہ ہے خواجہ آسیب تو بچارہ ٹریفک میں فزا ہوتا ہے جب آسیم منیر صاحب گزر رہے ہوتے ہیں سڑک کے اوپر سے یا کوئی چھوٹا بھٹا بھی گزر رہا ہوتا ہے فوجی تو خواجہ آسیب تو بچارہ ٹریفک میں فزا جاتے ہیں ان کی اوقات ہی کوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی کاغذوں میں وہ باس ہیں مدیر دفاع ہیں تو اب خواجہ آسیب کو اپنی ناکڑی بچانی تھی ناکڑی بچنی بھی نظر نہیں آرہی تھی یہ انہیں بلیس پہلا محسن نقوی نوہ پی سی بی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ایک دن پہلے تک پاکستان ورلڈ کب آ رہا ہے انہوں نے پی سی بی سے نہیں پوچھا ٹی ٹونٹی میں درگت بن گی انہوں نے پی سی بی سے نہیں پوچھا پاکستان کی ساری کرکڑ کا بیڑا غرق کر دیا ہے انہوں نے پی سی بی سے نہیں پوچھا جب انڈیا تے پاکستان بری طرح ہار رہا تھا تو یہی خواہ جہاں سے پی سی بی کی تاریفیں کر رہا تھا اور ہارس راوف کو کہہ رہا تھا کہ چ تو خواجہ آج سے
نے جو پہلے تو پی سی بی کے بارے میں ایسے بات نہیں کی لیکن اب پی سی بی کا بھی حساب کتاب مانگ رہا ہے اب جو بے ضابط کیا ہونی بزارت داخلہ میں ان کا بھی حساب کتاب مانگ رہا ہے اور جو نیشنل ایکشن پلین پہ عمل درامت قرآن تھا خواجہ صاحب اس کا بھی حساب کتاب جو ہے وہ مانگنا شروع ہو تو یہ وہ نہیں کیوں کیا خواجہ ع فیلڈ مارچل کے خاص آدمی کے خلاف بولتا ہوں تاکہ ان کے خاتیں پڑھ جائیں اور فیلڈ مارچل کے لیے اخلاقی طور پر مشکل ہو جائے مجھے نکالنا تو خواہ جاتا ہے اب اخلاق و اخلاق ادھر کوئی نہیں ہے لیکن آپ اپنی سیاست اچھی کر گئے ہیں اور یہ سیاست آپ کو سمجھ بھی آتی ہے اور آپ اس کے ماہر بھی ہیں اب آجائیں ناظرین ایک اور چیز علیمہ خانم وہ بہت بڑے پیمانے پر لوگ نکلتے ہیں جہاں وہ جاتی ہیں انہوں نے ثابت کیا ہزارہ � بنوں میں دہشت گردی ہے خوشالگڑ والا جو دھردان چل رہا ہے وہاں پہ بھی ہو گئی وہاں پہ بھی دہشت گردی ہے اب جس پوری پٹی میں علیمہ خانم وہاں پہ نکلی ہیں لوگوں کو موٹیویٹ کرنے کے لیے اس پوری پٹی کے اندر بڑے پیمانے پہ لوگ باہر آ رہے ہیں میں کرک کے مناظر دیکھ رہا تھا میں حیران ہو رہا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر لوگ باہر نکل آئے بہت بڑی تعداد میں لوگ نکلے وہاں پہ ایسا لگت ہم نے کوہاٹ کے اندر اس سے ملتے جلتے مناظر دیکھے یہ وہ areas ہیں جو دہشت گردی تھے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور یہاں وہ اپنی جان جوکھن میں ڈال کے اپنی جان خطرے میں ڈال کے وہ نکلی ہیں اور دہشت گردی والے علاقوں میں عوام کا اتنی بڑی تعداد میں باہر آ جانا وہ اس بات کا ثمود ہے کہ آج بھی لوگ عمران خان سے امید باندھ کے بیٹھے اور انہیں لگتا ہے کہ عمران خان ہی ان کے مسائل حل کر سکتا ہے خاص طور پر دہشت گردی کے
حوالے سے اور جو پولیسی میٹرز ہیں ان کے حوالے سے تو یہ علیمہ خانم ان کی باقی بہنیں وہ اپنا زور لگا رہی ہیں وہ اپنی کوشش کر رہی ہیں اب ایک چیز میں آپ کے سامنے اور رکھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ میں فرض کریں اگر ایک لڑائی ہو جاتی ہے یا پولیٹیکل پارٹیز میں اور اسٹیبلشمنٹ میں ایک کھنچہ تانی شروع ہو جاتی ہے اور آسم مونیر صاحب کے بارے میں کہا جا یہ سب ہوتا ہے تو پاکستانیوں کو کہاں کھڑے ہونا چاہیے سادھی سی بات ہے نا پاکستانیوں کو کبھی بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہونا چاہیے پاکستان کا سب سے برا سیاستدان بھی جب کبھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے لڑے تو سیاستدان کا ساتھ دو میں نے تو اس ساری لڑائی میں یہ سیکھا ہے کیونکہ سیاستدان کے پاس اس بات کا این او سی اور اجازت ہے کہ وہ سیاست کر سکتا ہے وہ ووٹ مانگ سکتا ہے وہ الیکش جبکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ یا کوئی جرنائل جو ہے وہ سرکاری ملازم ہے وہ تنخواہدار ملازم ہے اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ پالیسی میٹرز پہ بات کرے یا کسی پہ تنقید کرے تو اگر یہ کبھی لڑائی ہو بھی اول تو یہ ہونی نہیں ہے مجھے لگتا ہے سولہ سپائی ہو جائے گی میاں صاحب بڑے سینہ ہیں انہیں پتہ ہیں یہ چار پانچ بندے مل کر بیٹھے ہیں گھر کے اور انہوں نے اس کے اوپر سوچا ہے کہ محسن نقوی کو جواب دینا یا نہیں دینا تو یہ تو ان لیکن اگر یہ لڑائی ہوتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف ہو کوئی اور پولیٹیکل پارٹی ہو آپ ایک انڈیپنڈنٹ پاکستانی ہیں تو آپ کو ہمیشہ پولیٹیکل سائٹ پہ کھڑے ہونا چاہئے جو غلط لوگ ہیں ان کو غلط کہیں نواز شریف کی غلطیاں ساری قوم کے سامنے ہیں پیپت پارٹی کی غلطیاں ساری قوم کے سامنے ہیں سب لوگ غلطی کرتے ہیں لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ کسی جگہ پہ کسی کے ساتھ بھی جھگڑا کرے تو آپ سمجھیں کہ اسٹیبلشمنٹ
ہی غلط ہے کیونکہ آج تک ماکستان کے ساتھ جو بھی ہوا وہ انہوں نے کی ہے لیکن یہ ہونا نہیں ہے مجھے پتہ ہے نا ان ساروں کو ایک ساتھ عوام کو فیس کرنا پڑے گا عوام ایک دن نکلے گی اسٹیبلشمنٹ بھی سامنے ہوگی اور یہ ساری جماعتیں بھی سامنے ہوگی اور عوام ان سب کو کھٹیرے میں کھڑا کرے گی ہونا تو یہ الٹی میٹلی جو مجھے سمجھ آ رہی ہے ان کا آپس میں لڑنا مجھے بہت مشکل لگتا انہوں نے کشمیر والا جلسہ cover کیا تھا اور کل صبح یاد رکھیے گا میں ایک مرطبہ پھر یاد دلا رہا ہوں سارے والنٹیئرز کو کہ کل صبح ایف ٹین سے مرکز سے ایک بڑا کافلہ امدادی کافلہ سازوں سامان لے کر دوائیاں لے کر خوراک لے کر اور امدادی کارکنوں کے ساتھ ڈاکٹرز کے ساتھ پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ وہ جانا چاہتا ہے راولہ کوٹ سفید جھنڈے لے کر پاکستان کے جھنڈے لے کر تو آپ اس کا حصہ ضرور بن اگر آسم منیر کی پالسی نے آپ کو روکا تو یہ مزید ایکسپوز ہوں گے اگر نہیں روکا تو آپ انسانیت کی خدمت کر پائیں گے آپ کوشش کریں اللہ آپ کو اس کا عجر دے گا کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا جا رہا ہے جی بہت بڑے پیمانے پر درجنوں کشمیری گرفتار کر لی گئے مختلف جگوں سے اور اس میں پنجاب حکومت پیش پیش ہے سب سے زیادہ کشمیریوں کی گرفتاریاں جو ہیں وہ پنجاب سرکار نے یا پنجاب کی جو حسینہ واجد ہے انہوں نے
Get ultra fast and accurate AI transcription with Cockatoo
Get started free →
