All Content

Lahore Police Big Mistake: DIG Press Conference: CCTV Footage || Imran Riaz Khan VLOG

Imran Riaz Khan24 views
0:12

بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ناظرین آپ یوٹیوب چینل دیکھ رہے ہیں میں عمران خان ہوں میں نے ناظرین کئی دفعہ پہلے بھی آپ کو کہا کہ اگر بےوقوفوں کے سر کے اوپر سینگ ہوتے تو مریم نواد ان کی حکومت کے لوگ یہ پنجاب حکومت یہ بارہ سنگہ ہوتے سارے ان کے سروں کے اوپر بارہ بارہ سینگ ہوتے اور آپ کو نظر آرہے ہوتے لیکن بےوقوفوں کے سر کے اوپر سینگ ہوتے نہیں ہیں اور اگر یہ سینگ ہوتے تو جو لاہور کا ڈی آئی جی ہے وہ اٹھار چند چیزیں میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ کس قسم کی گیم ڈھالی جارہی ہے اور کن چیزوں کی پلاننگ کی جارہی ہے پہلے یہ کیا کہہ رہے تھے؟ذرا غور کیجئے گا پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ جناب ہمیں 15 پہ کال آئی کارلوس نامی آدمی کی لڑکیوں کے والد کی ہمیں کال آئی وان فائی پے اور اس کال کے آنے کے فورن بعد ہم نے مریم نواز سے رابطہ کیا آئی جی کو بتایا گیا آئی جی نے مریم نواز سے رابطہ کیا مریم نواز نے دو گھنٹے کا ٹائم دیا ہم نے فوری طور پہ لڑکیوں کو جا کے ٹریس کیا ان کو وہاں سے بازیاب کروایا بازیاب کروانے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں پہ لڑکیوں کو رکھا ہوا ہے وہاں سے جا کر بازیاب کروا لیا اور اس کے بعد ہم نے جو ملزمان ہیں ان کو ایک ایک کر کے track and trace system کے ذریعے سے safe city کے camera کے ذریعے سے اور جو بھی ان کی call data records اور mobile phone کی locations ان کے ذریعے سے ہم نے trace کیا اور بڑی efficiency کے ساتھ ہم نے دو گھنٹوں کے اندر گرفتاریاں بھی کر لیں دو گھنٹے میں ہم نے بازیاب کروا لیا اور پھر ہم نے فوری طور پر گرفتاریاں بھی کر لیں ایسی efficiency پنجاب پولیس نے اپنی خودی report کر دی اپنے موہ یہ میا میٹھو بن گئے اب حقیقت کیا ہے؟ذرا یہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں دیکھیں اب ان کو کیا کہنا پڑھ رہا ہے جی لڑکیاں تو خود ہی بازیاب ہو گئیں وجہ یہ ہے کہ یاسر شامی نے غازی روڈ سے جا کر یہ ثابت کیا کہ ایک گاڑی جس کے اندر لڑکیوں کو اغوا کر کے لے کر جا رہا تھا رضا دار نامی شخص اور وہاں سے گاڑی بھگا رہا تھا اور وہ گاڑیایک اور گاڑی کے ساتھ ٹکرا جاتی ہے جلد بازی میں اور وہاں پہ لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اس کا فائدہ اٹھا کر لڑکیاں گاڑی سے باہر چھلانگ مارتی ہیں اور شور مچارا شروع کر دیتی ہیں زمین پہ لیڑ جاتی ہیں رولا ڈال دیتی ہیں کہ ہمیں تو اغواہ کیا گیا ہے اور رزا دار وہاں سے بھاگ جاتا ہے جس کو آپ کہتے ہیں ہٹ اینڈ رن کیس پولیس کی زبان میں اس کو ہٹ اینڈ رن کیس کہتے ہیں اس کا وہاں پہ ایک مقدمہ اور بھی درج ہونا چاہیے اور اس شہری کی جانب سے درج ہونا چاہیے جو بچارہ فلٹر آؤٹ پہ کھڑا اگلے کئی گھنٹے تک یہی دیکھتا رہا کہ یار میری گاڑی بھی مار کے چلے گئے میرا نقصان بھی کر دیا میری چھوٹی بچی بھی زخمی ہو گئی اور وہ بھاگ بھی گیا بندہ اور یہ لڑکیاں بھی یہاں پہ چھوڑ کے چلا گیا تو وہاں پہ عوام اکٹھی ہو گئی پولیس فوری طور پر کرتی یہ ہے کہ وہاں آس پاس کی سی سی ڈی وی فوٹیج گائب کرنا شروع کر دیتی ہے لیکن زیادہ زیادہ پولیس کو یہ کرنا چاہیے تھا وہ سی سی ڈی وی فوٹیج کو حاصل کر لیتے لیکن وہ ڈی وی آرز ہی اٹھا کر لے گئے انہوں نے کہا جی نہیں ہمیں سارا ریکارڈ ہی گائب کرنا ہم نے پولیس نے ریکارڈ گائب کر دیا اور وقوع بنا دیا کہ جنب ہم نے جا کے ایک گھر سے غواطین کو برامت کیا تھا پہلا موقع کیا تھا کہ ہم نے ب اب محقف کیا ہے کہ جی وہ بازیاب تو وہ خودی بیچاری باہر آ گئی تھی اس کے بعد ہم وہاں پہ پولیس پہنچ گئی پولیس نے جا کے ان کو ریسکیو کر دیا بازیاب کروانے میں اور ریسکیو کروانے میں زمین آسمان کا فرق ہے پھر جناب وہ کہہ رہے ہیں جی گرفتاریاں اب نے خودی ان کو ٹریس کیا ملزمان کو پکڑا گیا گرفتار کیا گیا اور اب وہ کہتے ہیں جی پولیس نے رابطہ کیا اور رابطہ کر کے انہیں کہا گرفتاری دے دیں انہیں گرفتاری دے دیں جاؤں وہاں ر یہ میرے پاس بقاعدہ recording اب موجود ہے یعنی مجھے پتا ہے اور جب ضرورت پڑے گی تو وہ چیزیں ہم سامنے لے کر آئیں گے وہ میں نے اس لیے رکھی ہے کہ اگر یہاں برطانیہ میں کوئی میرے اوپر case کرتا ہے یا کوئی چیز کرتا ہے تو میں وہاں ثابت کروں کہ جناب یہ دیکھیں یہ information میرے پاس اس طریقے سے پہنچی ہےتو علی دار نے یہ علی دار رابطے میں تھا. نہ صرف رضا دار کے ساتھ بلکہ ایک اور لڑکا ہے اس کے ساتھ بھی رابطے میں تھا. اور ان لڑکوں کو علی دار نے کہا کہ گرفتاری دے دو. اس سے پہلے علی دار نے انہیں یہ بھی کہا کہ تم اگر کوئی اور بندہ پیش کر سکتے ہو اپنی جگہ پہ تو وہ بندہ پیش کر دو. یعنی اب لڑکیاں تو نہیں ہیں نا کہ جو جا کے وہاں پہ verification دیں گی. لڑکیاں تو نہیں ہیں جو جا کے وہاں پہ یہ کہیں گی ج تو لڑکیوں کو تو ان کو آئیڈیا تھا کہ انہوں نے واپس چلے جانا ہے اور ان کو تو رکھ بھی نہیں سکتے اب پاکستان میں تو یہ کہا گیا ایک option یہ بھی دیا گیا اپنی جگہ پر کوئی بندہ دے دو کوئی بندہ گرفتار کروا دو لیکن وہ بندہ انہیں ملا نہیں ان لوگوں نے جن جن لوگوں سے رابطہ کیا وہ لوگ بھی موجود ہیں اب کہ جناب میری جگہ پر آپ گرفتاری دے دیں لیکن بعد میں پھر علی دار نے کہا کہ نہیں نہیں SSP توقیر کو جا کے ملو کیونکہ کامران شاید اس دن لاہور میں نہیں تھا پھر یہ یہ ڈی اے جی نے اور ایس ایس پی نے ملکے سارا کام کیا اور انہوں نے اب ایک کہانی بنا دیا نہیں اور وہ کہانی کیا میں آپ کو بتاتا ہوں پی ای میل این کے جو جنرلسٹ ہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں میں امار مسعود کو سن رہا تھا اچھے خاصے بڑے باپ کے آدمی ہیں ان کے والد نے ایسی شاندار شاعری کی ہے کمال قسم کی میں بڑا فین ہوں ان کے والد کا لیکن انہوں نے بہت مایوس کیا اتنے بڑے آدمی کا بیٹا ایسی چاکری کر سکتا ہے ایسے ب پھر نوازشریف کے چھوٹے بھائی کی پھر نوازشریف کی بیٹی کی پھر نوازشریف کے بتیجے کی اب ان کے بچوں کے بچوں کی اب عساقدار کی عساقدار کے بیٹے کی اور اب عساقدار کے نواسے کی بھی یعنی اس level تک آپ لوگ گر گئے ہیں کہ اس خاندان میں کوئی آدمی کچھ بھی غلط کرے گا تو آپ اس کے دفاع میں سامنے آ جائیں گے یار فرض کریں یہ لوگ کل کو اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ آپ کے گھروں تک آ جائیں گے یہ اتنے طاقتور ہوں گے اگر لوگوں کی عزتوںیہ کل کو آپ کی عزت سے کھیل سکتے ہیں ان کو یہی پہ دبا دیں ورنہ باری باری سب کی باری آپ انہیں ڈیفینڈ نہیں کر رہے آپ ایک ظالم کو ڈیفینڈ کر رہے ہیں جسے ظلم کرنے کی عادت پڑ جائے گی یہ جتنی مرتبہ ظلم کر کے بچ جاتے ہیں اس سے بڑا ظلم کرتے ہیں اگر سانہیں مارڈل ٹاؤن کے ملزمان کو سزائیں ہو جاتیں تو نہ چھبیس نومبر ہوتا نہ نو میں ہی ہوتا اور نہ اس کے بعد باقی اس طرح کے واقعات ہوتے نہ کشمیر کے اندر قت نہ آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے بعد جو پاکستان میں تیس سے زائد لوگ شہید کیے گئے وہ بھی نہیں ہوتا اگر سانہ اے مارڈل ٹاؤن میں جو قتل عام ہوا تھا اس کی سزا مل جاتی تو رینجرز نے جو لڑکا ہاتھ جوڑ رہا تھا اسے قتل کر دیا تھا کراچی میں اگر اس انسیڈنٹ کے اوپر بدترین سزا دی جاتی تو آج یہ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے پاکستان میں اگر بلوچستان کے اندر ریپ کرنے والے فوجی افسر کو جرنل مشرف سزا دے دی اس سے کپٹن کو صدا دے دیتا تو آج یہ نہ ہوتا بلوچستان میں جو آج ہو رہا ہے یہاں پہ ظالم کو بچا بچا کر طاقتور کو بچا بچا کر ہم نے رول آف لا کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور اب ہر طاقتور ہر کمزور کے اوپر اپنا حق سمجھتا ہے وہ امار مسود کو میں دیکھ رہا تھا وہ خبر یہ دے رہے ہیں جناب رزا کے تو اپنے بھی ہاتھ بندے ہوئے تھے او بھائی او وڑے جنرلسٹ میں بتاتا ہوں کیا ہوا تھا یہ بات ہم اس لیے نہیں بتا رہے تھے اس کی اوقات کوئ رضا دار، عساق دار کا نواسہ ہی وہ آدمی ہے جس نے ان کے ویزوں کا بندبس کیا عساق دار کا دفتر مبینہ طور پر استعمال کیا رضا دار ہی وہ آدمی ہے جس نے ان کے ٹکٹوں کا اور آنے کا بندبس کیا اور ان کو پروٹوکول کے اندر ائرپورٹ سے نکالا چیک کرو کون پروٹوکول دے رہا تھا؟

7:26

کس نے پروٹوکول کے لیے کہا تھا؟کس طریقے سے انہیں نکالا گیا؟رضا دار ہی وہ آدمی ہے جس نے ان کے اسلامباد اور مری جانے کا اور وہاں پر رہنے کا بندبس کیا 26 ایک حبز بیجا میں رکھ لیا ان کو جبری طور پر گمشدہ کر دیااور ان لڑکیوں نے اپنے والدین کو information بھیجی جیسے جیسے ان کو موقع ملا کیونکہ یہ پیسے مگواتے تھے وہ گھر بات کرتی تھی وہ ڈچ کے اندر کوڈ دیتی تھی ان کے والد کو پتا چل گیا کارلوس ان کے والد کا نام ہے اس نے سپین کی پولیس بلا لی اب سپین کی پولیس اور کارلوس بیٹھے ہیں وہاں سے فون کر رہے ہیں ایمبیسی کو اور ایمبیسی نے ان کا رابطہ کر رہا ہے لاؤ انفورسمنٹ کے س اور یہ معاملہ ہے انتیس تاریک کا تیس تاریک کا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس اس سارے معاملے کو گھما کیوں رہی ہے وہ اس لیے کہ رضا دار کو انہوں نے ہر حال میں بچانا ہے رضا دار ہی وہ آدمی ہے جو لے کر آیا گیر کر لیا جس نے اغوا کیا جس نے تاوان طلب کیا اور جس کی ایماں کے اوپر ان خواتین کے ساتھ جبری طور پر جنسی زیادتیاں کی گئی رضا دار نے کروایا ہے نا بھئی رضا دار کے بارے میں اب وہ کہہ رہے ہیں جی اس نے خود تو ریپ نہیں نہ کیا اب یہ وہ لو اسی نے لڑکیوں کو اغوا کیا اسی نے لڑکیوں کو درندوں کے حوالے کیا اور اسی نے درندوں کو یہ آرڈر دیا کہ آپ اس کے ساتھ یہ بھی کر لو ان خواتین کے ساتھ تو انہوں نے کر لیا وہ بھی معاملہ یہ ہے کہ رضا ڈار کو آپ کیسے ماف کر سکتے ہیں اس کو آپ اس سارے معاملے سے کیسے نکال سکتے ہیں وہ کہہ رضا ڈار کے بھی ہاتھ بندے ہوئے تھے ہاتھ پھونک بندے ہوئے تھے میں بتاتا ہوں آپ کو کیوں بندے ہوئے تھے شروع میں جب رضا ڈار لڑکیوں سے ڈیل کر رہا تھا تو ہمیں تو آپ نے بلایا تھا کہ کاروبار کرنا ہے آپ تو ہم سے پیسے مانگ رہے ہیں تو وہ جھگڑا ہو جاتا ہے ان کا اب رضا دار کہتا ہے جی میرے اوپر بہت دباؤ ہے باؤس کا اور باؤس جو ہے نا وہ آپ کو بھی نہیں چھوڑے گا مجھے بھی نہیں چھوڑے گا آپ کو باؤس کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے اس سے پہلے رضا دار انہیں یہ کہتا رہا کہ پاکستان آ جاؤ تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ دیکھو وزیر آدم سابق یہ دیکھو یہ وزیر ہے یہ میرا باپ ہے یہ دیکھاس کا اس میں کوئی لینے دینا ہے اس کی تصویریں جو ہے پنجاب حکومت کے وزراء کے ساتھ بھی ہیں اس کی تصویریں جو ہیں وہ عساق دار کے ساتھ بھی ہیں سب کے ساتھ بھی ہیں نواز شریف کے ساتھ بھی ہیں اب یہ جو بندہ ہے رضا دار یہ ہے مین مجرم جو گھیر کے خواتین کو لے کر آیا اور بعد میں کہتا ہے کہ جناب نہیں میں بھی بہت مشکل میں ہوں اور باس ہمیں نہیں چھوڑے گا باس بہت طاقت لڑکیوں کے سامنے پہلے اس نے ڈراما کیا کہ میں بھی اغوا ہو گیا ہوں یہ دیکھو میرے بھی ہاتھ باندھیے گئے ہیں تو تھوڑی دیر وہ ڈراما کیا تاکہ لڑکیاں ڈر جائیں کہ رضا بھی پکڑا گیا ہم بھی پکڑی گئی ہیں اصل ڈراما ان کا یہ تھا جو انہوں نے شروع میں کرنا تھا کہ رضا بھی اغوا ہو گیا لڑکیاں بھی اغوا ہو گئیں تو ہم لڑکیوں سے کہیں گے پیسے منگوا ہو اور رضا کو بھی کہیں گے پیسے منگوا تو ہم تم ساروں کو پھ کیونکہ لڑکیاں کابو نہیں آرہی تھی وہ بہت تیز ہیں وہ یہاں پے پاکستان کی انپڑد لڑکیاں نہیں ہیں وہ بہت تیز لڑکیاں تھیں انہیں پتا چل گیا کہ یہ سارا ڈراؤم ہے اور پھر رضا دار خود بھی پیسے مانگنا شروع ہو گیا بعد میں ان کے ساتھ مل کے ٹورچر کرنا شروع ہو گیا تو یہ جتنا تشدد ہوا یہ جتنی جنسی زیادتی ہوئی یہ جو اغواب راہ تاوان ہوا یہ جو حب سے بیجا میں رکھا گیا یہ ساری چیزیں رضا دار نے کی ہیں اب بیانیاں رضا دار بندہ ہوا تھا تو بندہ ہوا تھا نا بھئی ڈراما کر رہا تھا وہ لیکن ہمارے صحافی ابھی بھی وہ خبریں دے رہے ہیں مو اٹھا کے صرف اس لئے کہ شریف خاندان کی چاکری کرنی ہے ان کے بچوں کو ان کی آل اولاد کو سب کو بچا کے رکھنا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی خاص نسل کے لوگ ہیں کوئی شاہی خون ہے اور ہم سارے کیڑے مکوڑے ہیں جنہوں نے ان کی پروٹیکشن کرنی ہے یہ تو طبقاتی نظام ایسا تو وہ ہوتا تھا برامن طبقہ ہوتا تھا ایک شہوتے تھے وہ اس طرح کا نظام بنایا ہوا پاکستان میں کہ جناب آپ نے ان کو ہمیشہ protect ہی کرنا ہے ان کو کوئی privilege ہیں وہ لوگ وہ privilege class ہے ان کو کسی چیز قانون بھی ان کو نہیں پوچھ سکتا یہ تو اس طرح ثابت کر رہے ہیں اب ناظرین جو رضا دار ہے وہی مرکزی ملزم ہے اگلا جو کھیل ہے وہ بھی میں آپ کو پہلے بتا دیتا ہوں اگلا کھیل یہ ہے کہ اب پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ رضا دار کا کردار صرف لین یاد رکھیے گا میری بات یہ لکھ لے آپ کو رے کاغذر سے پولیس اور عدالت اب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ رضا دار کا کردار صرف اور صرف لین دین کی حد تک ہے یہ پولیس ثابت کرنے کی کوشش کرے گی اور یہی عدالت کے اندر ان کے وقلہ بھی ثابت کریں گے کہ اس کا تو سمپل لین دین کا تعلق تھا اس سے زیادہ اس کا کچھ کردار نہیں ہے لہذا لین دین کے معاملے میں اس نے اپنی سہیلیوں کو بلایا اور یہ بھی پکڑا گیا اور پھر یہ بھی پھس گیا تو اس قسم کی اب گیم ڈالی جائے گی جو صحافیوں نے تھوڑی تیار بھی کی تو گیم کا ایک اصحاب تو ایکسپوز ہو گیا اب دوسرا بھی لے لیں ان خواتین کے اوپر کیچڑ اچھلا جائے گا پاکستان میں آپ کے بہت سارے صحافی اٹھیں گے جی یہ تو کال گرلز ٹائپ لڑکی ہیں اوہ جو ان کی تو اپنی تربیہ ٹھیک نہیں ہے اوہ یہ تو کھلی ٹھلی لڑکیاں ہیں ان کے تو جناب پہلے یہ یاشیاں کر رہی تھی 29 تاریخ کو ان کو اغوا کیا گیا اس کے بعد جو ان کا ریپ ہوا اس کی تصویریں نکالو یا چلو اگر آپ نے ویڈیو نکالنی ہے یا کوئی تصویر نکالنی ہے تو وہ ویڈیو نکالو جہاں پہ انہوں نے رو رو کے پولیس کو سٹیٹمنٹ دیئے دونوں خواتین نے کہ جناب یہ دیکھو ہماری ساتھ یہ یہ کچھ انہوں نے کیا ہے تو اب اس کو لین دین کا معاملہ بنا کے رضا دار کو نکالنے کی کوشش کی جائے گی فیصل کامران نے جب یہ کیا پریس کانفرنس تو صافی چڑھ دو سافیوں کے ساتھ انہوں نے ظلم کم کی ہے وہ اتنے پرفیشنل اور پرانے کرائیم رپورٹر ہیں وہ وہاں پہ اپنے شکوے شکایتیں انہوں نے شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے کیا ہی بہت برا ہے ہر ایک کے ساتھ تو انہوں نے لڑائی لی ہوئی ہے

13:29

پولیس کیٹ بنایا ہوا نا پنجاب کو جب بھی کوئی صوبہ یا کوئی علاقہ یا کوئی شہر وہ پولیس کیٹ بن جاتا نا پولیس پھر خدا بن جاتی ہے پولیس پھر کسی کو بھی اہمیت نہیں دیتی وہ احمد فراظ صاحب ہیں انہوں نے اپنا شور ڈال دی انہوں نے کہا جی آپ بڑی زیادتی کرتے رہے ہیں آپ نے ہمار ساتھ اتنا ظلم کی تو وہ ڈی اے جی کے لوگوں نے کافی وہاں پر اس کے پر چڑھائی کی لیکن ڈی اے جی یہ کہتا رہا جی ایسی کوئی بات نہیں ہے رات ساڑھے تین بجے وہ خواتین جب گئیں یہاں سے ایرپورٹ سے تو انہوں نے کہا جی ابھی پاکستان سے پیار ہو گیا ہم آپ لوگوں سے بڑے متاثر ہوئے ہیں آپ ہمیں پاکستان کا جھنڈا منگا کر گفٹ کریں تو ساڑھے تین بجے ہم نے ان کو پاکستان کا جھنڈا منگا کر دیا پاکستان زندہ بات کے نعرے لگے اور وہ شر یہ ہبل وطنی یہ صرف تمہارے بیچنے کا سودا ہے بھیروکریسی کا اور پولیس کا اور فوج کا میں جب آئی ایس آئی کی قیاد میں تھا نا تو مجھے ایسا لگا کہ چودہ اگست آنے والی ہے تو میں نے آئی ایس آئی والوں سے کہا کہ یار مجھے ایک چھوٹا سا جھنڈا ہی لا دو کیونکہ قیدے تنہائی میں اگر آپ کو کوئی چھوٹی سی ایسی چیز بھی مل جائے نا تو آپ کو جینے کی وجہ مل جاتی ہے وہاں میرا مرنے کو زیادہ دل کرتا تھا جینے سے میں ان سے پاکست اس نے کہا جی پیچھے سے انسٹرکشن آئی ہے کہ آپ کو پاکستان کا جھنڈا بھی نہیں دینا کپڑے کا اتنا تھا جھنڈا دیتے تو کیا فرق پڑ جاتا ہے انہیں یہ حبل وطنی کا چورن جا کے کہیں اور بیچو ہم میں محبے وطن جنہوں نے مار کھائی اپنے جسموں پر لخم کھائے اس کے باوجود پاکستان زندہ بات کا نعرہ لگایا جب مجھے لٹا کے ٹورچر کرتے تھے نا اور مارتے تھے میں تب بھی پاکستان زندہ بات کہتا تھا یہ جب ریٹائر ہوں گنا وہ بے شرم سارے جو مارنے والے تھے وہ اگر کتابیں لکھیں گے اور ان میں ذرا بھی غیرت ہوئی تھا وہ اپنی کتابوں میں لکھیں گے کہ ہم اسے مارتے تھے اور وہ کہتا تھا پاکستان زنداباد ہے پاکستان زنداباد ہے اور اس پہ مجھے اور مار پڑتی تھی کہ تُو پاکستان کا نام نہ لے پاکستان زنداباد کے نعرے سے یہ اتنا چڑھتے ہیں بے شرم ہم نے ہتکڑیوں میں پاکستان زنداباد کا نعرہ لگایا ہم روٹی کو چوچی کہتے ہیں کہ تم ساڑھے تین بجے رات کو ان کو بلیک میل کر رہے ہیں ان کو جنڈہ پکڑا رہے ہو اور وہاں سے تم ان کو جنڈہ دے کر بیج رہے ہو پاکستان کا وہ پاکستان کے بارے میں کیا ایمیج لے کر گئی ہے پتہ ہے تمہیں؟حکومت وقت کے بچوں نے ان کو بلایا تھا اور بلا کر ان کا ریپ کیا ہے ان کے ساتھ زنابل جبر کیا گیا ہے پاکستان میں اور وہ پاکستان کو اچھے ناموں سے یاد رکھیں گی صرف اس لیے کہ پولیس نے ان کو بادیاب نہیں کروایا وہ خود ہی ا اور ان کو اس بات کا پتا ہے کہ ان ملزمان کا تم کچھ نہیں بگار سکتے آج اگر یہ ٹیسٹ کیس ہے نا تو ایک ہی صورت میں یاد رکھیے گا مریم نواز کے دور میں اگر رضا دار باہر آ گیا یا اس کو جیل میں یا تھانے میں میرے لوگ ہر جگہ پہ ہیں میں پاکستانی ہوں نا ہر جگہ پاکستانی بیٹھا ہوا ہے تمہارا باپ بھی نہیں روک سکتا ہے انفرمیشن آنے کے ہم اڈیالہ جیل کے اندر سے انفرمیشن نکال لیتے تھے آج کل نہیں نکل رہی میں مانتا ہ کیونکہ ہر جگہ پاکستانی بیٹھا ہوا ہے اور اس کا دل دکھا ہوا ہے تم اسے پروٹوکول دوگے ہمیں پہلے پتا چلے گا کہ تم اس کو پروٹوکول دے رہے ہو تم اسے سہولتیں دوگے ہمیں پہلے پتا چلے گا تم اسے سہولتیں دے رہے ہو تم اس کی ملاقاتیں کروا ہوگے ہمیں پہلے پتا چلے گا کہ تم اس کی ملاقاتیں کروا رہے ہو اور ہم ہر چیز ایکسپوز کریں گے یہ ریپسٹ ہے اس نے ریپ کروایا یہ اگواب رہ طاوان کر رہا تھا اگر یہ آدمی مریم ن یا عدالت اس کو بری کرتی ہے یا عدالت اس کو زمانت دیتی ہےتو پھر یہ تاثر ہنڈرٹ پرسنٹ پکا ہو جائے گا کہ مریم نواز نے پورا زور لگا کر اپنے بہنوئی کے بھانجے کو بچایا ہے اور یہ جو مریم نواز in action شرم تو نہیں آتی اس کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان بے شربوں کو مریم نواز in action یہ بنتا ہے یار ایک دی آئی جی کا یار تم پڑے لکھے آدمی ہو تم سی ایس ایس کا exam دے کر آئے ہو جو اس کے پورے خاندان میں کوئی نہیں دے سکتا داندھلیاں کر کر کے نکلیں کر کر کے وہ پاس ہوئے ہوئے ہیں ان کی کپیسٹی اتنی نہیں ہے کہ چار کتابیں انہوں نے پڑھی ہوئی ہوں ابھی تھوڑے دن پہلے مریم نواز نے کہا جی میں نے جیل کے اندر کتابیں پڑھی ہیں بتایا نہ کونسی کتاب پڑھی ہے یہ مجھے پتا ہے کہ وہاں بہت ساری کتابیں رکھی ہوئی تھی کہ چلو کتاب پڑھ کے اپنا ٹائم گزار لے گی لیکن اس نے کتاب پڑھ کے ٹائم نہیں گزارا ہے اس کے بعد موبائل فون تھا چوری کا جس سے یہ ٹیل رضا ڈار کو بچانے کی پوری کوشش کی جائے گی سمجھیں جب رضا ڈار باہر آیا تو مریم نواز کا انصاف صرف اتنا ہی ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ CCD اس معاملے کو ڈیل نہیں کرے گی اس کو پنجاب پولیس ڈیل کرے گی کیونکہ ملزمان کی جیب میں پیسہ ہے وہ علی صحیح نے بڑی زبردست بات کی یعنی اس نے سارا کلم ہی توڑ دیا اس نے کہہ جی CCD کا جو پستاول ہے نا وہ صرف اس نفے میں چلتا ہے جس چلوار میں پیسوں والی جیب خالی ہو شلوار کے اندر بھی ایک جیب ہوتی ہے نا پیسو مالی اس نے کہا جس شلوار کے اندر جو جیب ہے نا وہ خالی ہے نا اس نفے میں سی سی ڈی کا پسٹاول چل جاتا ہے تو اب یہاں پہ الٹا کام ہو گیا رضا دار کا پسٹاول جو ہے یا عساق دار کا پسٹاول وہ سی سی ڈی کے نفے میں چل گیا اب سی سی ڈی جو ہے نا وہ چھپتی پھیلے گی مارو بندہ غریبوں کو تو آپ مار سکتے ہو جب مرسی مار سکتے ہو چھوٹے مٹے مجرموں کو آپ پار کر سکتپاکستانی انشاءاللہ. ہمیں پتہ ہے یہ آگ ہمارے دروازوں تک آئے گی لیکن ہم اس آگ کو روکیں گے اور ایسا بجائیں گے کہ دوبارہ یہ آگ لگے گی نہیں. اب تک لیتنے اپنا خیال رکھیں گے اپنے اس چینل کا بھی اللہ حافظ.

Get ultra fast and accurate AI transcription with Cockatoo

Get started free →

Cockatoo