Political Bombshell: Ayesha Gulalai Targets Maulana With Serious Accusations
بسم اللہ الرحمن الرحیم اور السلام علیکم اٹھارہ جولائے پاکستان میں ہفتے کی دوپہر آسم منیرز ڈی فیکٹو فارم فورٹی سیون ملٹری راج ڈے ٹو تھری وان آج کی اہم ترین خبروں کا آغاز کرتے ہیں پاکستانی ملٹری جرنلز کے اس خطرناک ترین مزائل سے جو انہوں نے فائر کر دیا ہے فضل الرحمن کے اوپر ویسے تو پاکستان کی تاریخ میں ہم بہت بار پہلے بھی یہ پستی دیکھ چکے ہیں مثلاً آپ سب کو یاد ہوگا کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھٹو صاحب کو فانسی دی گئی تو اس کے بعد پی ٹی وی سے کیمراز مگوا کر ان کی جو جستخاقی تھا ان کی جو لاش تھی اس کی ویڈیو بنوائی گئی یہ چیک کرنے کے لیے کہ ان کے خطنے ہوئے تھے کے نہیں بلکل اسی طریقے کا یا اس سے کم آپ یہ کہیے انٹنسٹی کا یا زیادہ کا وہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں ایک نیا مضائل داغا گیا ہے اور آئشہ گل علی جسے کسی زمانے میں عمران خان کے خلاف پاکستان کے ملٹری جرنلز نے استعمال کیا تھا اور اب انہوں نے فضل و ریمان صاحب کی اوپر استعمال کیا ہے یہ بات الگ ہے کہ جب آئیشہ گولیلائی کو عمران خان کے خلاف استعمال کیا گیا تھا تو یہی مولانا فضل الرمان صاحب نے اس میں سے چسکے لئے تھے لیکن آج بدقسمتی سے وہی جرنیلی مزائل آپ کہلیں خطرناک ترین آپ نے ابدالی، غوری یہ سارے مزائلوں کے نام تو پہلے سنی رکھے ہیں لیکن یہ گولیلائی جو مزائل ہے یہ نیا ہے جو فائر کیا گیا ہے مولانا فضر احمان کی اوپر اور وہ باتیں کی گئی ہیں جو عمومی طور پر مرد بھی ایک دوسرے کے بارے میں نہیں کرتے لیکن ایک خاتون ہو کر آئیشہ گولیلائی صاحبہ نے وہ باتیں کر دی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں شاید اس طریقے سے نیشنل ٹیلیویشنز کے اوپر نہیں کی جاتی پاکستان کے ملٹری جرنلز نے تقریباً تمام حدودوں کو یود جو ہیں وہ عبور کر دی ہیں اور اب کھلم کھلا بات ہو رہی ہے ٹیلیویشن کے اوپر جو الزامات لگ رہی ہیں وہ ہم ریپیٹ بھی نہیں کر سکتے
بجائے اس کے کہ ہم اپنی زبان سے آپ کے سامنے رکھیں کہ انہوں نے فضل الرحمن صاحب کو کیا کہا آپ کو سنوا دیتے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے جسم کے حصوں کے نام لیے اس طریقے سے لیے جو ایک خاتون کو نہیں لینے چاہیے تھے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ بچہ بازی کرتے ہیں مطلب کہ وہ ہمجنس پرست ہیں اس سے زیادہ گھٹیا اور سنگین الزام اور کیا لگایا جا جناب فضل الرحمان آپ ظالم ہیں آپ احسان فراموش ہیں یہ بارگیننگ ملا ہے فضل الرحمان آپ کی سیاست ختم ہو چکی ہے یہ ایک نمبر کا منافق اور مکار آدمی ہے اس نے جو اپنے کندے اور پیٹ موٹے کیے ہیں وہ جرنیلوں کے حلوے کھا کھا کر موٹے کیے ہیں فضل الرحمان آپ سفاک ہیں بچہ بازی کے شوقین ہیں اور میں فضل الرحمان کو اسلامی مولوی نہیں مانتی اس غددار نے شہداد اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کی جو توہین کی ہے پوری قوم اس کی اس حرکت پر شدید غصے میں ہے یہ جو حر یہ ملک کا ایک غدار ترین انسان ہی کر سکتا ہے پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ فضل الرحمن کو ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرنے ٹی ٹی پی کے دشدگرد بنانے اور شہدہ اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کی توہین پر قیدی نمبر 805 بنایا جائے عوام کو یہ بھی معلوم ہے کہ جب بھی الیکشن نزدیک ہوتا ہے تو اس کی بلیک میلنگ شروع ہو جاتی ہے یا تو اس کو فارم 47 والی سیٹے چاہیے ہوتی ہیں یا زمینیں چاہیے ہوتی ہیں یا کمیٹی چیئرمن تو جرنیلوں کے ساتھ بھی ہاتھ ملا لیتا ہے۔تو امریکی سفیر سے بھی ہاتھ ملا لیتا ہے۔بلکہ امریکی سفیر سے کہتا ہے کہ مجھے وزیراعظم بنا دو۔کوئی دوسرا امریکی سفیر سے ملاقات کرتا ہے تو اسے غدار کہتا ہے۔لیکن یہ خود امریکی سفیر کو گھر بلاتا ہے تو اسے سیاسی پیندرہ کہتا ہے۔بنو اور وزیرستان کے لوگ کہتے ہیں کہ فضل الرحمن اور اس کی جماعت کے لوگ خود بچہ بازی کے شوقین ہیں۔
اس لیے ان کو بچہ بازی اسلام کے مطابق نظر آہے۔عمران خان فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل کہتا تھا۔وہ ایک حقیقت تھی۔عوام جانتی ہے کہ یہ کبھی بلیک میلنگ کر کے ڈیزل کے پرمٹ لیتا ہے۔کبھی زمینے لیتا ہے۔
کبھی ٹول پلازے کی منسٹری لیتا ہے۔اس نے جو اپنے کندے اور پیٹھ موٹے کیے ہیں وہ جرنیلوں کے حلوے کھا کھا کر موٹے کیے ہیں۔یہ بارگیننگ مولا ہے۔یعنی جو اس کی زیادہ بولی لگاتا ہے، یہ پی اور میں فضل الرحمن کو اسلامی مولوی نہیں مانتی۔
سن لیا آپ نے کوئی قصر چھوڑی نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جرنیلوں کا حلوہ کھا کھا کر ان کے کندے اور ان کی پیٹھ موٹی ہو چکی ہے۔بڑی مہربانی ان کی کہ انہوں نے لفظ پیٹھ استعمال کیا جس طریقے کی ان کی زبان ہے اور پیچھے سے جرنیلز نے جو انہیں ٹیسٹ دیا ہوا تھا وہ کہیں اور قسم کے الفاظ بھی استعمال کر سکتی تھیں۔میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ پھر بھی انہوں نے کچھ خیال رکھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ کہا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں مطلب کہ بچہ بازی کرتے ہیں بچہ بازی ایک ایسا نیٹوریاس ٹیڈیشن ہے جس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بالگ یا بڑی عمر کے لوگ ایک چھوٹے بچے کو ساتھ رکھتے ہیں جس کا وہ جنسی طور پر احتیصال کرتے ہیں بہت سارے لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ دنیا کے کئی حصوں میں یہ کلچر ہے اور خیبر پختونخواہ کے بھی کئی علاقوں کے اندر یہ کہا جاتا ہے کہ ایسا کلچر ہے جس میں بہت سارے جو بڑی بڑی شخصیات ہیں یا ایسے لوگ جو افورڈ کر سکتے ہیں یا وڈیرے ہیں یا آپ کہہ لیجئے کہ وہاں کے ملک ہیں یا وہاں کا کوئی بھی ایسی پہنچی ہوئی شخصیات ہیں وہ اپنے ساتھ بچے رکھتے ہیں نوجوان کام عمر نوجوان یا بچے جن کا وہ جنسی استحص یہ اب عائشہ گلالہی صاحبہ نے اور یہ بھی کسی عام بندے کے لیے انہوں نے نہیں کہا ڈائریکٹ ہی مولانا فضل الرحمن کے بارے میں جو چلیں سیاست کرتے ہیں جیسی بھی کرتے ہیں انہوں نے ایک مذہب کا لبادہ تو اوڑ رکھاہے نا مطلب وہ مذہبی قسم کی سیاست کرتے ہیں یا اپنی مذہبی جماعت کے نام پر وہ سیاست کرتے ہیں لیکن عائشہ غلالی نے ان کے پلے ظاہر ہے جرنلز کے کہنے پر کچھ نہیں چھوڑا یہ پہلا موقع نہیں ہے جیسے میں نے آپ کو بتایا کہ ماضی میں بھی عائشہ غلالی کو عمران خان کی اوپر چھوڑا گیا تھا اسی طریقے سے الزامات لگوائے گئے تھے ہاں وہ الگ بات ہے کہ اس وقت باقی سبھی لوگ اس چیز کے چسکے لے رہے تھے انکلوڈنگ فضل الرمان صاحب اب فضل الرمان صاحب جو ہیں وہ قابو آئے ہیں اور ملٹری جنرلز نے سوچا ہے کہ ہم نے کوئی حد چھوڑنی نہیں ہے جو کچھ فاطمہ جناح صاحبہ کے ساتھ کیا گیا وہ ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں باقی کوئی بھی نہیں بچا آپ سب کو یاد ہوگا کہ ملٹری جرنلز کے لائے ہوئے نواز شریف صاحب اور ان کے جو ارد گرد انہوں نے اس وقت ٹاؤٹ ان کو دیئے تھے یا سو کال سیاستدان تھے انہوں نے محترمہ بینظیر بٹو صاحبہ کی جالی ننگی جھوٹی تصاویر جو ہیں وہ ہیلیکاپٹر سے پھینکی تھی تو جو بھی گندگی ہوتی ہے اس میں کہیں نہ کہیں چودری صاحب کی انوالمنٹ ضرور ہوتی ہے یہاں تو اب لوگوں کا تاثر ہے یہ ظاہر ہے کسی کے پاس کوئی کاغذات تو نہیں ہے کہ عائشہ گوللائی کو پاکستان کے ملٹری جرنلز نے ہی بھیجا ہے لیکن جب آپ کڑی سے کڑی ملاتے ہیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ پاکستان کے ملٹری جرنلز نے اس معاملے کے اندر پورا رنگ برنے کا فیصلہ کیا ہے میرا انیلیسز ابھی بھی وہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے یہ تمام اب اگر آپ دیکھیں تو ملٹری جنرلز کے لوگ اگر دوسرے لوگ اس معاملے کو بھولنا بھی چاہتے ہیں تو ملٹری جنرلز کے جو ٹاؤٹس ہیں وہ بار بار فضل الرحمن کی اوپر اٹیک کر رہے ہیں کیوں کر رہے ہیں؟
تاکہ وہ ان کو ہیرو بنائیں تاکہ پنجاب میں اور ملک کے طول اورز میں یہ بتایا جائے کہ صرف ایک عمران خان انٹائی اسٹیبلشمنٹ فائٹ نہیں کر رہا یا جرنیلوں کے سامنے نہیں کھڑا فضل الرحمن بھی جرنیلوں کے سامنے کھڑے ہو چکے ہیں اگر آپ سوشلوگ تو بہگ گئے ہیں. وہ کم از کم یہ ماننا شروع ہو گئے ہیں کہ کہیں فضل الرحمن صاحب نے واقعی جرنیلوں کو تو نہیں للکار دیا. اور یہی جو کنفیوجن ہے یا یہی جو لوگوں کی سمجھ میں بات نہیں آتی اسی میں سے پاکستان کے میلٹری جرنلز اصل میں فائدہ اٹھاتے ہیں. اب اگلی خبر جو ہے وہ بھی اسی سے ریلیٹڈ ہے اور اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اب دوسری پارٹی کس طریقے سے رسپ فضل الرمان صاحب کی پارٹی میں سے شاہدہ اختر علی صاحبہ نے جواب دیا ہے عائشہ گوللائی کا مطلب ایک مزائل گوللائی نامی جو ہے وہ پاکستان کے ملٹری جنرلز نے چھوڑا تو واپس فضل الرمان صاحب کی پارٹی میں سے بھی شاہدہ اختر علی صاحبہ جو ہیں انہوں نے اس کا جواب دیا ویسے یہ انہوں نے مناسب کامی کیا کیونکہ کوئی مرد جواب دیتا اور زیادہ سخت الفاظ عائشہ گوللائی کے لیے استعمال کرتا تو معاملہ خراب ہوتا انہوں نے بھی چن کے واپس میدان میں ایک خاتون کو اتارا اور انہیں کہا کہ آپ سخت الفاظ میں عائشہ گلالئی کو جواب دیں انہوں نے کہا کہ عائشہ گلالئی پہلے اپنی حیثیت واضح کر لیں وہ واضح کریں کہ وہ مرد ہیں یا عورت ہیں کبھی وہ مرد بنتا ہے کبھی عورت ان کی گندی ذہنیت یہ شو کرتی ہے کہ ان کے ذہن میں کیا لاوا پک رہا ہے الحمدللہ ہم نے جب بھی مولانا صاحب کو دیکھا یا تو وہ عبادت کرتے ہیں یا تو سیاست کرتے ہیں جو بھی مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے اس طرح کی زبان استعمال کرتا ہے وہ اپنے ذہن کی اقاسی کرتا ہے مولانا صاحب نے مولانا صاحب پر بڑے سنگین الزمات لگائے ہیں کہ مولانا صاحب جرنیلوں کا کھا کھا کے اپنے کندے اور اپنی پیٹھوں نے موٹی کیے استغفراللہ میں سخت کنڈیمٹ کرتی ہوں اور جس خاتون نے بھی یہ بات کی ہے پہلے وہ اپنی حیثیت واضح کرے وہ کبھی مرد بنتا ہے کبھی عورت بنتا ہے پہلے وہ اپنی جنس کے تو بتائے کہ وہ کیا ہے بگڑی باندھ کے آنا پارلیمنٹ میں اپنا تماشا بنانا مجھے نہیں اچھا لگتا کہ میں اساس طرح گندی الفاظ اور ذہنیت شو کرتی ہے کہ ان کے ذہن میں کیا لابا پک رہا ہے. مطلب کہ معاملات کو بڑھایا جا رہا ہے دونوں طرف سے تانے تشنے جو ہیں وہ ان کو ذرا تیز کیا جا رہا ہے. آگے چلتے ہیں. جے یو آئی فی مولانا فضل روان صاحب کی پارٹی کے خیبر پختونخواہ کے امیر مولانا عطاور رحمان نے بھی ایک پریس کانفرنس کی اور بہتی دھواندار پریس کانفرنس کی. ایک تو انہوں نے کہا کہ مولانا کا جو بیان تھا شہیدوں کے اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ مافی مانگنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے کیونکہ مولانا نے کوئی غلط بیان نہیں دیا اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ جرت ہے تو مولانا کے خلاف پرچہ دو پتہ لگے کہ تمہارے اندر جرت ہے مطلب وہ پاکستانی ملٹری جنرلز کو للکار رہے ہیں کہ آپ کے اندر اگر جرت ہے تو وہ فضل الرمان صاحب کی اوپر پرچہ دے کر دکھائیں اس کو بھی ذرا پینسل کر لیجیے مین اپنے پاس نوٹ کر لیجیے ان کی یہ دھمکی کہ کیوں یہ اتنے کانفیڈنٹ ہیں کہ پاکستانی ملٹری جرنلز انہیں پکڑ کر جیل میں نہیں ڈالیں گے جب وہ عمران خان جیسے بڑے لیڈر کو نہیں چھوڑ رہے یا باقی تمام چیزیں آپ کے سامنے ہیں تو فضل الرمان صاحب کی پارٹی کو اتنا کانفیڈنٹس کہاں سے ہے کہ ان کے جو صوبائی امیر ہیں خیبر پختون خواہ کے وہ کہہ رہے ہیں کہ جرت ہے تو مولانا فضل الرمان کے سپہ سالار سید آسم منیر حافظ قرآن ہے اس ملک میں پھر بھی ان پر انگلیاں اٹھاتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی یہ طاہر اشرفی صاحب لوگوں کو یاد کروا رہے ہیں کہ سپہ سالار صاحب جو ہیں وہ حافظ قرآن ہے ویسے تو آپ کو پتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں بہت سارے ایسے واقعات ہیں اور خصوصاں کئی حکمران بھی ایسے ہیں جو حافظے قرآن تھے نمازیں بھی پڑھتے تھے لیکن سخترین ظلم انہوں نے کیے اور دنیا آج بھی ان پر تو علانت کرتی ہے لیکن بہرحال طاہر اشرفی صاحب نے کہا کہ کتنے ارب روپے چاہیئے میں دیتا ہوں مجھے دس بندے دے دو اس موت کی وقعیتکے لیے طائر اشفری صاحب یہ آفر کر رہے ہیں کہ وہ اربوں روپیاں دینے کو تیار ہیں اگر کوئی پیسے لے کر شہید ہونے کو تیار ہے تو میرے سامنے آئے آگے بڑھتے ہیں ذرا اب جو اصل باتیں ہیں یہ بیانات تو ہو گئے لیکن ذرا آگے بڑھتے ہیں آپ کو پتا چلے کہ اصل کیا چل رہا ہے یہاں پر ونوں اور اطراف میں فورسز کی کاروائیاں بھارتی پروکسی یہ پاکستان کے میڈیا کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے خبریں دی گئیں سیکیورٹی فورسز نے بننوں اور گردوں نوا میں کاربائیوں کے دوران بھارتی پروکسی فتنہ تل خوارج کے چوبیس دہشتگرد ہلاک کیے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برامد ہوا دہشتگردوں سے اور اس کے ساتھ بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث یہ تمام جو دہشتگرد تھے انہیں مار دیا گیا بننوں میں حالیہ خودکش دماغے کے بعد انٹیلیجنس بیسٹ آپریشن تیز کر دیے گئے اور دہشتگردوں اور سہولتکاروں کے خلاف کاروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گے اچھا میں اس سے پہلے کس پر بات کروں یہ تو جیو ٹی وی نے رن کی ہے وہ ٹکرز جو ڈی جی آئی ایس پی آر کے دفتر نے انہیں دیئے ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے بکلم خود ایک ٹویٹ بھی کیا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس ٹویٹ کے جو کامنٹ سے وہ بند رک جیسے ہم نے کل پرسوں آپ کو ایک ٹویٹ دکھایا تھا جس میں لوگوں کے کومنٹس نہیں کھولے گئے تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب کو بھی پتا ہے کہ کومنٹس کھولے تو لوگوں نے کیا سلوک کرنا ہے۔اس لیے وہ بڑے آرام سے اپنی بات کہتے ہیں، نیچے سے کومنٹس بند کرتے ہیں تاکہ لوگ ان تک اپنی فیڈبیک نہ پہنچا سکیں۔
لوگ بھی بڑے کمبخت ہیں فیڈبیک بھی اچھے الفاظ میں نہیں پہنچاتے اکثر سخت الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جس سے ہمارے ڈی جی صاحب یا تو خفا ہو گئے ہیں یا ڈر گئے ہیں اور وہ بیچارے اب کسی صورت بھی کوشش ہی نہیں کرتے کہ انہوں نے کسی طرح سے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کو کھولنا ہے تاکہ نیچے لوگ فیڈبیک دے سکیں انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کیا کہا انہوں نے انگلیش میں ٹویٹ میں کیا کہاہم اس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں. حالیہ دنوں میں بننوں زلا میں پولیس کے خلاف دہشتگردی کی سرگرمیوں میں اضافے اور گاڑیوں کے ساتھ بم دھماکے کے پسی منظر میں جس میں بھارتی پروکسی فتنہ تل خوارج نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا. سیکیورٹی فورسز نے ان خطرناک حملوں کے مجرموں اور ان کے سپورٹ نیٹور کو تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مشترکہ انٹیلیجنس بیسٹ آپریشن کیے اس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران بننوں زلہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں بھارتی پروکسی فتنہ تل خوارج سے تعلق رکھنے والے چوبیس خوارج جہنم واصل ہو گئے اب یہ ٹکرز تو بڑے زبردست لگتے ہیں جب جیو ٹی وی کے اوپر چلتے ہیں یا ان کا ٹویٹ چلتا ہے تو لگتا تو یہی ہے کہ چودری صاحب نے دہشتگردوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی کا اعلان کیا ہے لیکن یہاں کوئی بھی چودری صاحب کو یہ پوچھنے کو تیار نہیں کہ پہلے اس بات کا جواب دیجئے کہ بننوں جیسا علاقہ جو سیٹلڈ ہے ایریل ڈسٹنس میں اسلامباد کے بہت قریب ہے وہاں پر دہشتگرد پہنچے کیسے آپ کیا چھٹیوں پر اب آپ نے کہا کہ انٹیلیجنس بیسٹ آپریشن کیے مربوط آپریشن کیے فیصلہ کون آپریشن کیے تو یہ کیا آج سے مہینہ دو مہینے چار مہینے چھے مہینے سال تین سال جب یہ دہشتگرد اکٹھے ہو رہے تھے پچھلے دو تین سالوں میں تو اس وقت کیا آپ چھٹی پر تھے یا آپ کیا کر رہے تھے؟اس وقت آپ نے یہ سب کچھ کیوں نہیں کیا؟جب حملہ ہو جاتا ہے وہ بم دماکوں میں لوگوں کو شہید کر دیتے ہیں اس کے بعد آپ ایسے ٹکرز جاری کرتے ہیں جیسے آپ نے کوئی وہاں سے کپ جیت لیا ہو۔آگے بڑھتے ہیں ذرا اگلی بات کرلیں اب یہ تو ہو گیا آپ کا ٹویٹ بھی آ گیا جس میں کومنٹس آپ نے بند کیے ہوئے تھے۔یہ تو شہدہ کی توہین کی جا رہی ہے یہ جو ہم آپ کے ساتھ
سامنے ویڈیو دکھانے لگے ہیں بلوچستان کے زلا زیارت میں قتل کیے گئے پولیس اہلکار. عطااللہ کی بہن کہہ رہی ہے کہ حکومت نے نہ ایمبولینس دی اور نہ ہی جہاں پر ہمیں بتایا گیا وہاں پر ان کی لاش تھی. ہم لاش ڈھونٹی رہیں لیکن ہمیں ان کی لاش ہاؤسپیٹلز میں سے نہیں ملی. بعد میں وہ کہتی ہیں کہ ان کی لاش جو ہے وہ بڑے جتن کر کے خود سے دہشتگردوں کے قبضے ان کا بھائی جب شہید ہو گیا تو کسی قسم کا کوئی تعاون ان کے ساتھ نہیں کیا نہ لاش لانے میں نہ لاش لا کر دی انہیں خود اس میں ظلیل و اقوار ہونا پڑا اب ایک طرف تو ہمیں دن رات یہ باحشن دیا جاتا ہے کہ شہیدوں کی عزت کرنا سیکھیں آپ لوگ شہیدوں کی عزت نہیں کرتے یہ ہم خود پتہ نہیں کس طریقے سے شہیدوں کی عزت کرتے ہیں میت لانے والی گاڑی کا کرایا بھی وہ بہنیں کہتی ہیں کہ ہم نے خود ادا کیا یہ ذرا سن لیجئے وہ کہتی کیا ہماری پیسہ بھی بھائی، دیوہ بھروں رہتے ہیں، بہت تصرف سوالیں کھینے نہیں سکتے۔
ڈاڈا ہی تک سیرہ لے، لاغا پندرہ زار باہر پھنی، تواں تک جھوڑے، یوں چھوڑے، چھوڑے لاغا مال پندرہ زار پی رکھے، باہر تور کھلے۔
سن لیا آپ نے ایک طرف ہمیں کہتے ہیں کہ فضل الرمان صاحب نے جو بیان دے دیا وہ کوئی اور نہ دے کیونکہ شہیدوں کے بارے میں اگر آپ نے یہ بیان دے دیا کہ ان کو تنخواہ ملتی ہے یا کوئی اور چیز تو آپ بہت بڑی گستاکی کریں گے لیکن خود دیکھ لیجیے آپ کے سامنے ہیں جو صورتحال بنی ہوئی ہے کہ خود جو ملک کی خاطر وطن کی خاطر شہادت دی ہے جن پولیس حلقاروں نے ان کی بہنیںماری ماری پھرتی رہی ہیں اور ان کو لاشیں نہیں ملی لیکن یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم شہیدوں کا بہت احترام کرتے ہیں آگے انڈیا سے ایک حیران کن خبر ہے اور اس کی خبر ساتھ پاکستان میں بھی ملتی ہے خبر یہ ہے کہ محمود غزنوی نے سومنات کے مندروں میں موجود بتوں کو توڑ کر غلطی کی تھی یہ بیان جو ہے یہ بھارت کے اندر افغان وزیر خارجہ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے حتمی خبر ہم اسے نہیں کہہ سکتے ہیں سوشل میڈیا پر یہ بہت ڈسکس ہوا اس لیے آپ کے سامنے رکھا کسی ریگولر نیوز پیپر نے اسے ابھی تک پرنٹ نہیں کیا اب اگر یہ بات درست ہے مان لیتے ہیں ایک منٹ کے لیے کہ جو افغان طالبان کے وزیر تجارت ہیں جو اس وقت آہ جو بھارت کے اندر ہیں وہ اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ جو سومنات کے اندر مندر توڑے گئے وہ غلط تھا تو چلیں ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ انہوں نے کیوں کہا لیکن اس سے لگتا یہ کہ ملاں جہاں پر بھی ہیں ہمارے والے بھی ایسی پوزیشن بدلتے ہیں unfortunately تو لگی رہا ہے کہ جو طالبان والے مولوی حضرات ہیں وہ بھی اپنی پوزیشنز اسی طریقے سے بدلے جا رہے ہیں آگے درہا بڑھ لیجیے کیونکہ پاکستان کے اندر بھی اسی چیز پر بحث شروع ہو گئی جب فو کر دیا کہ وہ افغانستان سے ہیں اور بہت سارے لوگ اور افغانستان سے ہیں تو اس پر حافظ حمدللہ صاحب نے ایک ٹویٹ کیا اور کہا کہ آپ کے تمام جو مزائل ہیں وہ غزالی، غزنوی، عبدالی، ان ناموں کے اوپر آپ کے مزائلوں کے نام ہیں یہ سب افغان تھے اور اگر آپ کو افغانوں سے اتنا مسئلہ ہے کیونکہ ایک یہ بھی بات کہہ دی گئی تھی کہ فضل الرحمن صاحب کے جو اباؤ اجداد ہیں وہ افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے تو ان کو ایک قسم کا چودری صاحب یہ prove کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فضل امان صاحب جو ہیں وہ اصل میںپاکستانی بھی نہیں ہے تو حافظ عبداللہ نے کہا کہ یہ جو سارے آپ نے افغان ہیروز کے ناموں کے اوپر مزائلوں کے نام لکھے ہوئے رکھے ہوئے اس کو واپس لے لیں اس پر جو معید پیرزادہ صاحب ہیں انہوں نے ایک بڑا دلچسپ ٹوئٹ کیا انہوں نے کہا ہاں اگلے جو مزائل ہیں ان کے نام رکھیں نور جہاں باجوا رحیل شریف اس کے ساتھ جتنے بھی آرمی چیف زیادہ الحق کے اس طرح کے نام رکھیں جو پرانے زمانے کے افغان آپ بادشاہ کہہ لیں ہیروز کہہ لیں ان کے ناموں کی اوپر مضائل نہ رکھیں بلکہ اس طرح رکھ لیں پھر انہوں نے بعد میں یہ کہا کہ مریم کے نام پر بھی ایک مضائل رکھیں اور نواز شریف کے نام پر بھی ایک مضائل رکھیں. ویسے نواز شریف تو بچیرہ وہ مضائل ہے جو خود ہی اپنی دھوتی میں چل گیا. کسی اور کا انہوں نے نقصان کیا کرنا تھا وہ ای آگے بڑھتے ہیں یہ مدائلوں کے ناموں پر تو فڑڈا پڑ گیا اگلی خبر یہ ہے کہ جعوید حاشمی صاحب اب ایک طرف آپ کے سامنے جو مولانا عطاو رحمان ہے جو امیر ہیں جمعیت علماء اسلام فیہ مطلب فضل الرمان صاحب گروپ کے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمت ہے تو فضل الرمان کے اوپر F .I .R دو اور اسے گرفتار کرو وہ للکار رہے ہیں دوسری طرف جعوید حاشمی جو کہ بہت بزرگ سیاسدان ہیں آپ سب کو پتا ہے انہوں نے فضل الرمان صاحب کے بیان کہ پاکستان کے ملٹری جنرلز غلط کر رہے ہیں اپنی آئین شکنی کر کے اور اپنے حلف کی رو گردانی کر کے اور سیاست میں حصہ لے کے اس لیے فضل الرمان صاحب کا جو ویان ہے وہ درست ہے بس ان کا یہ کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز رات گئے ان کے گھر پہنچ گئے ابھی کی ہمارے پاس لیٹس سیچویشن نہیں لیکن پوری رات ان کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا انہوں نے ٹویٹر پر بھی پیغامات جاری کیا اور بتایا کہ صرف فضل الرمان صاحب کے ٹویٹ کو انڈ اب ہے نا حیرت کی بات جس نےدیا فضل روان صاحب نے ان کو پولیس اٹھانے نہیں جاتی. جس نے ان کے بیان کے اوپر صرف ایک توسیق کرتے ہوئے ٹویٹ کر دیا اس کو اٹھانے کے لیے ہماری رینجرز اور پولیس وہاں پہنچ گئی. اس چیز سے آپ خود اندازہ لگا لیجیے کہ پریارٹیز کیا ہیں اور جو ہم نے آپ کے سامنے یہ انیلیسس رکھا تھا کہ اصل میں یہ جو بھی فضل الرحمان صاحب سے کہلوایا گیا ہے یہ پاکستان کے ملٹری جنرلز نے کہلوایا ہے اور آپ یہ دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں فضل الرحمان صاحب کی نہ پارٹی کے اوپر زمین تنگ ہوگی نہ اغوا برائے بیان ہوگا نہ ہی کوئی کانفرنسز ہوں گی پریس کانفرنسز جس میں فضل الرحمان صاحب کی پارٹی کو لوگ چھوڑ کے جا رہے ہیں آپ کو ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہوں صرف فضل الرمان صاحب کے اوپر کبھی عائشہ گولاللہی صحابہ کو چھوڑا جائے گا کبھی کسی اور کو ایک بھرپور ایک مہم چلائی جائے گی تاکہ میڈیا کی توجہ ساری اس طرف چلی جائے اور پھر فضل الرمان صاحب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اس لیے مجھے ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا لیکن یہاں پر بڑی انٹرسٹنگ بات ہے جو جعوید ہاشمی صاحب نے سنائی اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پہلی کہ سناتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب محمد شاہ رنگیلہ دیلی پر حکومت کرتا تھا اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی تو نادر شاہ نے دیلی پر حملہ کیا قتل عام کیا شہر اجاڑ دیا جب محمد شاہ کو بتایا گیا کہ نادر شاہ حویلی میں داخل ہو چکا تو وہ بے پروائی سے بولتا ہے حویلی کہہ دیا معذرت دلی میں داخل ہو چکا تو وہ بے پروائی سے کہتا ہے کہ کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا اور پھر اپنی توائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ سائرہ جو ہے وہ مجھے جھولا دے مجھے جھولا دو وہ اپنی دوست کو کہتے ہیں کہ مجھے جھولا دو وہ کیا کر لے گازیادہ زیادہ اسے بعد آخر کار نادر شاہ اس تک پہنچ جاتا ہے وہ ساری چیزیں فتح کر کے دلی میں آخر کار ان کے دربار میں پہنچ کے ان تک پہنچ جاتا ہے تو جو احمد شاہ ہے وہ نادر شاہ کو اپنا بھائی بنا لیتا ہے کہتا ہے لڑتے نہیں ہیں آجو بھائی بنتے ہیں اور حکومت مجھ سے نہ لو محمد شاہ جو ہے وہ کوہ نور جو ہیرہ تھا اپنی پگڑی میں اور نادر شاہ کہتا ہے کہ ہمارا دستور ہے جب ہم بھائی بن جاتے ہیں تو ہم پگڑیاں جو ہیں وہ ایکچینج کرتے ہیں کیونکہ نادر شاہ نے وہ ہیرا لینا تھا جو احمد شاہ نے چھپایا ہوا تھا اپنی پگڑی میں جب پگڑیاں تبدیل ہوئیں تو کوہے نور ہیرا جو ہے وہ نادر شاہ کے پاس چلا گیا تو انہوں نے ایک کہانی تو یہ سنائی اس کے ساتھ دوسری کہانی انہوں نے یہ سنائی کہ ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو آدمی پہلے سامن ایک گھٹڑی اٹھائے آدمی پر سب سے پہلے نظر پڑی تو اسے بادشاہ بنا دیا گیا وہ ہر مسئلے کا ایک ہل اور جواب دیتا تھا حلوہ پکاؤ اور کھاؤ ملک پر حملہ ہوا تب بھی اس نے کہا کہ حلوہ پکاؤ اور کھاؤ وہ کہتا تھا تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے میرے پاس جو پوٹلی ہے اس میں کیا ہے جب دشمن وہاں تک پہنچا تو پوٹلی میں کچھ بھی نہیں تھا اس نے کہا بھئی حلوہ پکاؤ اور کھاؤ اور ہمیں یہاں سے جانے دو تو یہ انہوں نے کہ آخر پر یہ کہا جائے گا کہ حلوہ پکاؤ کھاؤ اور آپ بھاگ جاؤ تو وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی ملٹری جنرلز کی جو ساری کی ساری پولیسیز ہیں یہ پاکستان کو پیچھے لے کے جا رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی محمود خان اچکزئی صاحب نے کہا ہے کہ پانچ آگست کو عمران خان کو قید ہوئے تین سال مکمل ہو جائیں گے اس لیے پانچ آگست کے ایک دن کا احتجاج ہمیں نہیں کرنابلکہ ہمیں لمبا اور موسر احتجاج کرنا ہے وہی بات جو علیمہ خانم صاحبہ نے بھی کہی ہم نے بھی کہی وہی اب محمود اچکزائی کہہ رہے ہیں کہ ایک دن کے احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں اتنا لمبا احتجاج کرنا ہے کہ عمران خان کو اس کا کوئی فائدہ ہو ان کی کوئی رہائی ہو اور ان کو علاج معالجے کی سہولت جو ہے وہ مل سکے پھر محمود خان اچکزائی نے کہا کہ الزام نہیں لگا رہا میرے پاس ثبوت ہے اہم میٹنگ میں آپ نے جرگے کو بلا کر کہا کہ قبائلی لشکر بناو کیا آپ اپنی طاقت کھو چکے ہیں پہلے فضل الرمان صاحب نے یہ الزام لگایا کہ فوجی کہتے ہیں ہم نہیں لڑیں گے جو عوام ہیں خیبر پختونخواہ یا ٹرائیبل ایریاز کی یا بلوچستان میں وہ جرگے بنائے اور وہ لڑیں اب محمود خان اچکزہی بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں دوسری طرف رانہ سناولہ نے کہا کہ اگر بلوچستان یا کے پی میں آبادی سے یہ کہا جائے کہ وہ دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے اپنے اندر کچھ اہلیت پیدا کریں تو اس کا یہ مطلب لینا کہ ریاست لوگوں کو لشکر بنانے کا کہہ رہی ہے یہ غلط ہے وہ کہتے ہیں بینکس بھی تو اپنی حفاظت کے لیے سیکیورٹی گارڈ رکھتے ہیں غور کریں ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اوپر سے کوشش نہیں کرتے رانہ سناولہ یہ کہہ رہا ہے کہ بینکس بھی تو سیکیورٹی کارڈ رکھتے ہیں اگر فوج نہیں لڑے اور عوام اپنی تیاری خود کر کے لڑ لے تو اس میں کون سا حرج ہے؟
مطلب اب اپنے ٹاوٹس کے ثروہ پاکستانی ملٹری جنرلز عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ ہم لڑنے جوگے نہیں یا ہم نے نہیں لڑنا یا ہمارا دل نہیں ہے آپ جانے اور اپنا کام جانے خدا نہ کرے کل کوئی انڈیا اگر کوئی جاریت کرتا جو فوج ہے اس کو کہنے کی کیا ضرورت ہے ہمیں خودی یہ ملجل کے لشکر بنا کے انڈیا کا مقابلہ کر لینا چاہیے. تو اس طرف کو معاملات جو ہیں وہ پہنچ چکے ہیں. اس کے بعد اگلی خبر شیر افضل مروت نے ایک بہت بڑاالزام لگایا مریم اپنا علیمہ خانم صاحبہ کے اوپر. انہوں نے کہا کہ میڈیا خبر اٹھا لیتا ہے کہ علیمہ خانم نے خیبر پختونقاہ میں سٹریٹ موومنٹ شروع کر دی. اب وہ الزام کیا لگا رہے ہیں?بجائے اس کے کہ عمران خان کی بہنوں کا ساتھ دیں. بجائے اس کے کہ عمران خان کے لیے کچھ کریں حالانکہ ان کے نام پر ووٹ لے کر ایم این اے بنے چلیں. توٹ ہی صحیح ل وہ کہہ رہے ہیں کہ اصل خبر یہ ہے کہ چند دن پہلے مائننگ کے سیکریٹری مائننگ یہ جو مادنیات نکلتی ہیں جو اس کے سیکریٹری خیبر پختونخواہ کے حکومت کے علیمہ خانم کے گھر میں ملاقات کے لیے گئے اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ علیمہ خان چطرال گئی ہیں چطرال میں علیمہ خان کے بیٹے کا مائننگ کا بزنس ہے یا ٹھیکا ہے ان کی بہو بھی وہیں کی ہے ایک بار کا ذکر ہے کہ انہوں نے نتھیہ گلی جو ہاں پر گورنر ہاؤس ہے اس میں ایک انہوں نے معروف جو آرکیٹیکٹ ہیں علیمہ خانم صاحبہ پہ الزام لگا رہے ہیں کہ ان سے کہا علیمہ خانم صاحبہ نے گنڈہ پر کو کہا کہ وہ جو معروف آرکیٹیکٹ ہیں ان سے ذرا گورنر ہاؤس کی تزینوں اور عائش کروالو انہوں نے اس کا بل پنتالیس کروڑ روپے مانگا جس کے بعد گنڈہ پر نے کہا کہ نہیں میں یہ نہیں کر سکتا تو اب بجائے اس کے کہ عمران خان کی بہنوں کا ساتھ دیں شیر افضل مروض صاحب جو ہیں وہ سیدھا سیدھا عمران خان کی بہنوں کی اوپر حملہ آور ہو رہے ہیں حالانکہ میں نے جیسے کہا کہ ووٹ ان کے پاس آج بھی عمران خان کا ہے لیکن ان کو اس چیز کا کوئی اثر اور فکر نہیں ہے آخری خبر دے دیں سردار تنویر علیاس نے ازاد کشمیر میں یہ سابق وزیراعظم ہے ازاد کشمیر کے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں فوجی آپریشن کیا جائے اب یہ اس مطالبے پر کیسے پہنچے اس لیے پہنچے کہ سردار تنوی کشمیر میں چار حلکوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں ایک میں تو جیتیں گے دوسری جانب آج ان کو اپنے ابائی حلکے میں عوام نے داخل ہونے سے روک دیا وہاں فائرنگ ہوئی اور شاید ایکشخص جہاں بھاک بھی ہو گیا. مطلب وہ اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو پا رہے. عوام جو ہے وہ مضاحمت کر رہی ہے کہ آپ نے اپنے علاقے کے اندر بھی نہیں آنا. تو کشمیر کے اندر حالات اتنے خراب ہیں کہ نہ پیپلز پارٹی اپنی کیمپین کر پا رہی ہے اور نہ ہی مسلم لیگ نواز. باقی باتیں تو آپ چھوڑ دیجئے. بہرحال آج ذرا تبیت تھوڑی سی ناساز ہے اس لیے ویلوگ کے اندر انرجی آپ کو کم نظر آئی ہوگی میرا خیال ایک آدھ دن ایسے ہی گلہ خراب ہے کچھ بخار ہے تو آپ کو گزارہ کرنا پڑے گا ایک دن اور شاید اس میں توانائی تھوڑی کم ہوگی مین جو بہتی زیادہ آپ یہ کہہ لیجیے کہ ایک پورے زور سے ویلوگ ہوتا ہے وہ یہ نہیں ہے آپ سے معذرت مجھے یہاں سے اجازت دیجئے اللہ آپ کا حمی و ناصر ہو پاکستان زندہ بعد
Get ultra fast and accurate AI transcription with Cockatoo
Get started free →
