What is 7700 Code? Murad Saeed is Back || Imran Riaz Khan VLOG
بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ناظرین آپ یوٹیوب چینل دیکھ رہے ہیں میں عمران خان ہوں ناظرین ابھی ایک دن پہلے آپ نے سنا اور میں نے آپ کو بتایا ابھی کہ آرمی چیف نے کتنی اچھی تقریر کی تھی کتنی زبردست باتیں کی تھی ساری پولٹیکل پارٹی، قومی اکجہتی اور سب کا شکریہ آدا کیا تھا لیکن میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہاں پہ کال اور فیل میں تضاد ہوتا ہے اور وہ تضاد ایک مرتبہ پھر نظر آیا لہور میں پاکستان تحریک انصاف کے کچھ کارکنوں یا اعتجاج نہیں کرے گی تو پھر تو اپوزیشن کو کوئی کام ہی نہیں ہے پاکستان طریقہ انصاف کے لوگ جیسے ہی باہر آتے ہیں تو ان کے اوپر دہشتگردی کے مقدمے درج کیے جاتے ہیں انہیں اس طرح سے دیکھا جاتا ہے جیسے انڈیا سے کوئی گھسپیٹیے پاکستان میں آگئے ہیں یا بم لے کر کوئی دہشتگرد گھوم رہے ہیں طریقہ انصاف کا جھنڈا اٹھانا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے خون لگیوئی تلوار اٹھا لی ہے پاکستان میں اور پھر پا ان کے گھر کے میں مناظر دیکھ رہا تھا رات گئے دن کو انہوں نے مہنگائی کے خلاف اعتجاج کی اب اتنی زیادہ مہنگائی ہے پاکستان میں کہ ہمارے جو دوست فوج کے اندر ہیں وہ بھی فون کر کے کہتے ہیں کہ یار بہت مہنگائی ہوگی ہے تباہی پھر گئی ہے وہ بچارے بھی برداشت نہیں کر پا رہے ہیں حالانکہ ان کو بہت ساری مراد بہت ساری چیزیں انہیں ملتی ہیں اچھے خاصے سفید پوچھ لوگ امیر لوگ وہ بچارے اب بتاتے ہیں کہ ہم مہنگائی کے ہاتھ تو فضا عالم کے گھر کے اندر چھاپا مارا اور مرد پولیس اہلکاروں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیاجیسا کہ یہ ہمیشہ کرتے ہیں کیونکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان کی بیک پر کھڑی ہے جنرل آسم مونیر جو ہیں وہ سپورٹ کرتے ہیں ایسی چیز کو تو ان کے گھر پر چھاپا مارا گیا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اور مرد اہلکار ایک خاتون کارکن کو اٹھا کر لے گیا سنم جاویت کو اسپطال میں لیا گیا ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی جیل میں میں چند دن پہلے کہ سنم جاویت سے بدلہ لیا جا رہا ہے اور جس وقت سنم جاویت کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ یہ بڑے صاحب کے حکم پر ہوا ہے کیونکہ خیبر پختون خواہ سے سنم جاویت کو گرفتار کیا گیا تھا اور بڑے صاحب آپ جانتے ہیں یہ وہی بڑے صاحب ہیں جن کے بارے میں افسار علم نے کہا کہ موسن نقوی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججس کے پاس جاتا ہے اور جا کر بتاتا ہے کہ بڑے صاحب کا حکم ہے تو فیصلہ آپ نے ہمارے مطابق دینا ہے تو سنم جعوید کے اوپر جو ہے وہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بہت غصہ تھا کیونکہ وہ عاصم مونیر صاحب پہ تنقید کرتی تھی اب پتہ نہیں اسے کیا کھلایا جا رہا ہے کیا کیا جا رہا ہے اس کی آنکھ میں بھی پرابلم ہے اس کے میدے میں بھی پرابلم ہے اور وہ اچھی کاسی دی تھیک تھاک بیمار ہوتی چلی جا رہی ہے اور یہ اور بھی بہت سارے قیدیوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس وقت جو ہے نا وہ نظام ظالمانہ ہتکندوں پہ اتڑا ہے اور اس کا سب سے بڑا کیا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ میں اب وہ اپیل میں چلی گئی ہیں سپریم کورٹ آپ پاکستان میں اور جو صورتحال ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ابراہم خان کو علاج کے لیے اسپطال منتقل کرنے کے لیے عضمہ خانم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر چکی ہیں اور انہوں نے نواز شریف کی جو جیل میں بیماری ہے اس کی مریم نواز اور ذاتی معالج کو میاں نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت اور میڈیکل چیک اپ کی درخواست اور اس پر لاہوریکورٹ کا جاری کیا گیا ملاقاتیں کرانے کا آرڈر میاں نوازشریف کو عدالتی اجازت سے لاہور سے لندن روانگی کی خبر کے اخباری تراشے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی اور وفاقی وزراء کے اس پابندی کو جواز پیش کرنے کے لیے پریس کانفرسس سمیت انہوں نے بہت ساری تفصیلات پر مبنی دستاویزات اکٹھی کر کے سپریم کورٹ آپ پاکستان کو ماضی علاج کے لیے شفاہ اسپطال منتقل کرنے ذاتی معالجین کی رسائی اور فیملی سے ملاقات کرنے کی اجادت دینے کی استعداہ کی ہے دیکھیں عدالت کو غیرت دلانے کی کوشش کی انہوں نے بتایا کہ نوازشریف نام کا آدمی جیل میں تھا اس کو کتنی سہولیات تھیں کیسے ان کے ڈاکٹر جاتے تھے فیملی جاتی تھی کیسے انہیں اسپطال کے اندر پورا محل بنا کر دیا گیا تھا مجھے یاد ہے میاں نوازشریف کو جب اسپطال شفٹ کیا گیا تو آس پاس کے سارے کمروں میں ان کے خ اور پورا خاندان وہاں پر موجود رہتا تھا پورا میلہ لگا ہوا تھا میاں صاحب کے لیے سپیشل ٹائلیں باثروم کی تبدیل کی گئی تھی کہ میاں صاحب پسند نہیں فرما رہے تھے تو بہت سارے اور بھی انتظامات کیے گئے تھے بازی میں بتا چکا ہوں میرے خیال میں بار بار اس میں جانے کا فائدہ نہیں لیکن نواز شریف کو جس لیول کی سہولت کاری اس نظام نے کی تھی عمران خان کو بنیادی حقوق بھی ان کے نہیں دیے جارہے اس بھی عدما خانم نے سپریم کورٹ آپ پاکست مراد سعید بڑے لمبے عرصے کے بعد منظر عام پر آئے مراد سعید نے انٹریو دیا شہداد اکبر صاحب کو انٹریو ویسے سننے والا ہے آپ سب سے میری گذارش ہے کہ آپ شہداد اکبر صاحب کے چینل پر جا کر مراد سعید کا انٹریو ضرور سنیں اس میں آپ کو بہت ساری وہ چیزیں پتا چلیں گی جو آپ کو شاید پہلے آئیڈیا نہیں تھا مراد سعید نے ابھی بھی کیونکہ میری مراد سعید سے بات ہوئی تھی اور مراد سعید کے بعد جو حقائق ہیں اور بہت ساری ایسچیزیں ہیں جو مراج سعید نے ابھی بھی اپنے دل میں رکھی ہوئی ہے اور اس نے ان چیزوں سے پردہ نہیں اٹھایا دیکھیں جتنا مرضی پاکستان طریقہ انصاف کو مار پڑی ہے ایک بات تو سب کو ماننی پڑے گی کہ انہوں نے بہت ساری ایسی چیزیں جو وہ کر سکتے تھے کہہ سکتے تھے انہوں نے وہ کہنے سے گریز کی ہے اور اس لیے نہیں کہ وہ ڈرتے ہیں انہوں نے اتنی بڑی ٹکر لی ہوئی ہے ڈر کی وجہ سے نہیں ان مراد سعید جو ہے ان لوگوں میں سے ایک ہے اور بھی پاکستان تحریک انصاف کے بہت سارے لوگ ہیں ابھی مراد سعید نے بہت ساری باتیں نہیں بتائی لیکن جو بتایا وہ تلخ حقائق ہے جو پاکستان کے اندر ہوا کہ کیسے پاکستان میں لنڈن پلان کے ذریعے سے ایک ملٹری جرنل اور پولٹیکل پارٹی کے بیچ میں معاہدہ ہوتا ہے پھر کیسے امریکہ کو بیچ میں لائے جاتا ہے پھر کس طریقے سے پاکستان میں دہشتگردی کو بائی ڈیزائن لائے گیا اور کن حالات کا سامنا عمران خان نے اور مراد سعید نے کیا اور اب عمران خان کو خاموش رکھنے یا خاموش کروانے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
افغان پالسی پاکستان نے کیوں بدلی؟
پھر انہوں نے بتایا کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس میں پاکستانی شامل ہو گئے یہ آپ انٹریو سنیں آپ کو بہت سارا کچھ اس انٹریو کے اندر ملے گا ناظرین اب پاکستان کے اندر باتیں بہت بڑی بڑی کی جاتی ہیں بہت بڑی بڑی باتیں کی ج کہ ہم نے یہ کر دیا ہم نے وہ کر دیا حقیقت کیا ہے میں ایک تحریر پڑھ رہا تھا اور اس میں وہ حقیقت جو ہے وہ سب سے آسان الفاظ میں نظر آتی ہے وہ کہتے ہیں یہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کتنی بڑھانی ہے یہ فیصلہ تو آئی ایم ایف کرتا ہے روس اور ایران سے سستا تیل لینا یا نہیں لینا اس کا فیصلہ امریکہ کرتا ہے اور دنیا کے فیصلے ہم کرتے ہیں یعنی ہم بے وکوف ہیں یہ عوام جو ہے یہ روٹی کو چوچی کہتے ہیں کہ تم کہو گے جناب ہماری بڑی عز ہمارا آرمی چیف جو ہے وہ بریفکیس لے کے ڈانلڈ ٹرمپ کی گھوٹیکرنے پہنچ جاتا ہے یار یہ کوئی طریقہ تو نہیں ہے نا یہ ملک اس طرح تو نہیں چلتے اور پھر آپ کہتے ہیں بڑی عزت مل رہی ہے بھئی ڈانلڈ ٹرمپ جیسا آدمی تحریف پر تحریف کرتا چلا جا رہا ہے اس لیے کہ اس کو آپ سے کام پڑا ہوا ہے اس کے علاوہ آپ نے قوم کے لیے کوئی ٹکا کمائیا یا کوئی سرمایہ گاری پاکستان کہ جناب پاکستان کو کرزے کی ایک اور قسط مل گئی یہ ہے جناب سب سے بڑی کامیابی پھر یہ سارے ٹاؤٹ مل کر ایک دوسرے کو مبارک بات دیتے ہیں مبارک ہو جی کرزہ مل گیا بہت بڑی معاشی کامیابی ہو گئی پاکستان طریقے انصاف کے دور میں آئی ایم ایف سے بات کرنے کے اوپر پورے پورے آرٹیکل چھاپ دیے جاتے تھے پروگرام ہو جاتے تھے کہ آپ گئے کیوں آپ ملے کیوں یہاں پہ کرزے کی قسط لینے کے اوپر یہ مبارک باتیں دیتے ہیں بلاول نے جس بروٹ مجارٹی کا لفظ استعمال کیا تھا نا میں حیران ہو گیا تھا کہ بیندیر بھٹو کی روح قبر کے اندر تڑپ گئی ہوگی جو بلاول نے کیا تھا ڈنڈے والی جمہوریت اور بروٹ مجارٹی یہ بلاول نے الفاظ استعمال کیے تھے جس بروٹ مجارٹی کے ساتھ ظالمانہ مجارٹی کے ساتھ طاقت کے استعمال کے ساتھ بلاول نے آئینی ترمیم پاس کروائی تھی چھبیسویں اور ستائیسویں آج وہی بلاول پھسا ہوا ہے پیپت پارٹی کو سندھ میں رگڑا ل یہ بھی کرپشن پگڑ لیں گے وہ بھی کرپشن پگڑ لیں گے ان کو بار بار دھمکایا جا رہا ہے اس میں ایک بڑی زبردست سویل رشید صاحب نے خبر دی ہے اور یہ اس میں چار پانچ خبریں ایک ساتھ ہیں ان کی ایک ہی خبر میں کہ کس طریقے سے اب سندھ کے اندر بند فائلیں کھولی جا رہی ہیں کس طریقے سے نیپ کو دوبارہ متحرک کیا جا رہا ہے کس طریقے سے پیپل پارٹی اور ان کے لوگوں کے اردگرد شکنجا کر رہی ہیں
رہا ہے تو یاد رکھئے گا کہ بلاول کو اور عاصف زرداری کو اٹھائیسویں آئینی ترمیم بھی اچھے بچوں کی طرح پاس کروانی پڑے گی چاہے وہ یہ مانے یا نہ مانے کیونکہ بروٹ مجورٹی یہ بلاول نے خود کہا تھا تو ذرا اس کا مزہ بھی یہ چکھیں گے انہیں وہ سارا کچھ کرنا پڑے گا جو جمہوریت کی نفی ہے انہیں وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جس سے پاکستان میں سیاستدان کمزور ہوں گے اور پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ مزید مضبوط ہوگی اب کچھ لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ فیلڈ مارشل آسیم منیر صدر پاکستان بن جائے گا اور وہ کوشش کر رہے ہیں کوئی آئینی ترمیم کر کے صدر پاکستان بن جائے کوچھ بھی بن جائیں یہ ملک نہیں چلنا صدر پاکستان بن جائیں وزیراعظم بن جائیں آرمی چیف کے اوپر بھی کوئی عوضے یہ نظام نہیں چل سکتا آپ الٹے لٹک جائیں آپ کو عمران خان سے معافی مانگنی پڑے گی آپ کو عمران خان کے ساتھ جا کر بیٹھ کے بات کرنی پڑے گی کوئی رستہ آپ کو نکالنا پڑے گا یہ نظام نہیں چلے گا پاکستانی بگڑ گئے ہیں پاکستانی نہیں بات مان رہے ہیں ناظرین اب انٹرنیشنل خبروں کی طرف چلتے ہیں ڈانلڈ ٹرمپ نے جب سے ایرانی تجاویز مسترد کی ہیں اس کے بعد انہوں نے بات کی نیتن یاؤ سے اور تب سے لے کر اب تک جو اسرائیل ان میں گزشتا چوبیس گھنٹوں میں امدادی کارکنوں سمیت اکاون لبنانی افراد جو ہے لبنان میں شہید ہو گئے اور لگا تار یہ تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے ہم لوگ کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے تو یہ ایران کی ایک شرط تھی کہ لبنان کے اندر جنگ بندی کی جائے لیکن جب بھی ایران کی تجاوید مسترد ہوتی ہیں تو اسرائیل لبنان پہ بمباری جو ہے اس کو تیز کر دیتا ہے اب اس وقت لبنان پہ شدید بمباری کر رہا ہے اسبڑھتی چلی جا رہی ہے دوسری جانب ایران نے بھی ڈانلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کہا اس کے اوپر اپنا ردعمل دے دیا ایک دو ایران نے کہا جی ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران کے جواب پر امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے جو ردعمل دیا اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ایران میں منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے نہیں بنایا جاتے ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھی ایرانی تجاویز میں امریکہ کو جنگی نقصانات کے محافظے کی ادائیگی اور اپنائے حرمت پر ایران کی خودمختاری پر زور دیا گیا دیکھیں اس میں ایک ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ہے اسمائیل بکائی انہوں نے جو بیان دیا ہے اس میں کافی کلیرٹی ہے انہوں نے کہا کہ ایران کے مطالبات بڑے معقول اور ذمہ دارانہ مطالبات ہیں جبکہ انہوں نے امریکہ پر یک طرف ٹھوپنے کا الزام آئیت کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ایران کا مطالبہ ایرانی جہازوں کے خلاف بحری قرضاقی کا خاتمہ یعنی وہ جو نقابندی امریکہ نے کی ہے وہ ختم کی جائے جسے وہ سمندری نقابندی کہتے ہیں ایرانی عوام کے غیر ملکی بینکوں میں منجمت اساسوں کی بحالی کا مطالبہ ایران نے کیا کہ جناب جتنے دنیا کے در بینکوں میں ہمارے پیسے آپ نے منجمت کر رکھے ہیں اربوڈ ڈالر کو ہمیں ریلیز کیے جائیں ہم اپنی عوام کے لی اور لبنان سمیت پورے خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ کیا کیا یہ مطالبت ناجائد ہے اچھا اس میں جو آبنہ حرمز والا ایران کا مطالبہ ہے نا کہ ایک محفوظ عام درفت اس میں ایران کے پاس قلیدی کردار ہے یعنی ایران یہ کہتا ہے کہ آبنہ حرمز میں محفوظ عام درفت تب ہی ہوگی جب ایران خود اس عمل کی نگرانی کرے گا اور اس کے ساتھ کوارڈینیشن میں ہوگااور ایران کو اس کا بل ادا کیا جائے گا تو آبنہ حرمز کے اوپر جو کنٹرول ہے یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اب ایران نہیں چھوڑنا چاہتا ناظرین اسی بیچ میں ایران میں ایک اور بڑی ڈیولپمنٹ ہوئی ہے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سات بڑے خوفناک جاسوس ایران نے گرفتار کر لی ہیں اس کے علاوہ ایک شخص کو وہاں مار بھی دیا گیا ہے وہاں انکاؤن ایران میں اسرائیلی جاسوسی کا نیٹورک بڑا شاندار بنایا تھا موساد نے کیونکہ ان کے بعد بہت زیادہ پیسہ ہے بہت سارے وسائل ہیں پھر وہ دنیا کے اندر فیسلیٹیٹ بھی کرتے ہیں ایسے لوگوں کو ان کی فیملیز کو اور وہ ایسے کمزور لوگوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں مختلف محکموں میں مختلف جگہ پہ جو کام کر سکے ہیں انٹیلیجنس کے لیے یعنی خفیہ معلومات موساد کو نہ صرف فرام کرتے ہیں بلکہ وہ بہت سارے دیگر کام بھی کرتے ہیں ا دو ایسے سیل ختم کیے ہیں جو اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد کیلئے کام کر رہے تھے کاروائیوں کے دراند سات افراد گرفتار کیے گئے جبکہ مسلح جڑپ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا مغربی آزربائیجان میں چار افراد پر مشتمل ایک سیل صوبے کے مختلف علاقوں اور تہران میں حساس مراقض اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں ایک قتل کی تیاری کر رہا تھا پھر انہوں نے بتایا کہ کون کون سی جگہ پہ کس کس طریقے سے انہوں نے ایک ایک بندہ گرفتار کیا اور انہوں نے بتایا کس طرح کے ان کے پاس یہ ہتھیار ملے کس طرح کا گولہ بارود ملا پھر ان کے پاس یہ بہت چھوٹے سائز کے ڈرونز بھی ملے جنہیں یہ جاسوسی کے لیے استعمال کرتے تھے پھر مواصلاتی آلات اس طرح کے ملے جن سے یہ رابطے میں رہتے تھے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ اور بلر پروف جیکٹے بھی ان کے ساتھ ملی اور بہت ساری اور چیزیں تو ایک جاسوسی کا پورا نیٹورک ہے جو کام کر رہا ہے ایران میں اور اب ایرانی انٹیلیجنز جو ہے وہ ایک ایک کر کے ان جاسوسوں کو پکڑ رہی ہے یہ جاسوس بہت بڑا اساسا تھے موساد کےکیونکہ اسرائیلی انٹیلیجنس اتنی تگڑی تھی ایران میں جس کی بنیاد کے اوپر انہوں نے نہ صرف ایرانی سائنسدانوں کو قتل کیا ان کی لیڈرشپ کو قتل کیا چھوٹی چھوٹی معلومات ان تک پہنچ جاتی تھیں ناظرین ایک ڈیولپمنٹ اور ہے جو بہت عجیب ڈیولپمنٹ ہے اور امریکہ کے لیے بہت پریشان کون ہے مدشتہ چند دنوں سے ہم یہ خبریں پڑھ رہے خلیجی ممالک کے اوپر جب پرواز کرتے ہیں خاص طور پہ وہ آبنہ ہرمس کے نزدیک جب جاتے ہیں یا سمندری پانیوں کے نزدیک جو ایران کے جب وہ نزدیک جاتے ہیں تو اکثر طیارے دبل سیون ڈبل زیرو کا ہنگامی پیغام بجواتے ہیں یہ ڈبل سیون ڈبل زیرو کیا ہے؟امریکن ائر فورس کے طیارے جب مشکل میں آ جاتے ہیں جب ان کو کوئی جیمرز پڑ جاتے ہیں یا ان کا کمیونکیشن کا یا دیگر سسٹم پوری طرح سے کام نہیں کر رہا ہوتا یا اب امریکہ کے بعد شاندار ائر فورس ہیں بڑے اچھے طیارے ہیں جدید سسٹم ہیں ان کا لیکن یہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے یہ گذشتہ چند دنوں سے لگاتار ہو رہا ہے کبھی دو طیاروں کے ساتھ ہوتا ہے کبھی چار طیاروں کے ساتھ ہوتا ہے کبھی پھر کسی طیارے کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ ہوتا چلا جا رہا ہے ابھی حالی میں ایک مرتبہ پھر گذشتہ رات دوبارہ سے امریکی ائر فورس کے طیارے نے دبل سیون ڈبل زیرو کا امرجنسی کوڈ بھیجا اور فوری طور پ کوئت میں بھی لینڈ ہوا سنا اور قطر میں بھی لینڈ ہوئے اب یہ یو اے ہی کے اندر ایک طیارہ لینڈ ہوا ہے ایسے کون سے جیمرز اس قطعے میں آگئے ہیں جو اس سے پہلے نہیں تھے دیکھیں اس سے پہلے جب امریکن فورسز آئیں تھی اور انہوں نے بہت شدید بمباری کی تھی ایران پہ تو تب طیاروں کی جانب سے اس قسم کا شکوا نہیں کیا گیا تھا اور اس قسم کے کوڈز بھیجے جانے کی اطلاع نہیں تھی اب لگا تار جب سے ایک امریکی طیارہ ایران میں گرا پائلٹ والا معاملہہوا اس کے بعد سے لے کر ایک دم صورتحال بدل گئی ہے اب ایران کی جو فضاء ہے وہ امریکی ایئر فورس کے طیاروں کے لیے ویسی نہیں ہے جیسی ماضی میں تھی یہ کون سے جیمرز ہیں دیکھیں جب انڈین پائلٹس پاکستان پر اٹیک کرتے ہیں تو انہیں بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے انڈین ایئر فورس کے اندر اس بات کی بڑی ڈسکشن ہے کہ وہ پاکستانیوں میں مارتے کیسے ہیں پاکستانی تو دھوکے مارتے ہیں ان کو 2019 میں مارا اس کے بعد 2025 میں پھر مارا اور جب بھی انڈینز نے اس طرف کا رخ کیا تو انہیں بڑے شدید قسم کے جیمرز کا اور چیزوں کا سامنا کرنا پڑا تو چائنہ کے پاس بھی بڑی شاندہ تکنولوجی ہے میں کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتا لیکن امریکنز کو ایک نئی صورتیال کا سامنا ہے اور اسرائیل کو بھی ہے اسرائیلی جو آرمی چیف ہے چیف آف سٹاف ایال زمیر اس نے یہ سٹیٹمنٹ دیا ہے کہ ہمیں فوری طور پہ ہزاروں فوج کیونکہ جس قسم کی لڑائیاں اسرائیل نے اس وقت چھیڑ دی ہیں ان لڑائیوں میں پرفارم کرنے کے لیے اور سروائیف کرنے کے لیے اسرائیل کو مزید ہزاروں فوجیوں کی ضرورت ہے اور انہوں نے اپنی ڈیمانڈ ڈال دی اور یہ بات ایک دفعہ نہیں کئی مرتبہ اسرائیلی چیف آف سٹاف نے کیا ہے کہ مجھے مزید فوجی چاہیے ورنہ سسٹم کولیپس ہو سکتا ہے تو اب تک لیے اتنے ہی اپنا خیال رکھی گا آپ نے اس چینل کا بھی اللہ حافظ
Get ultra fast and accurate AI transcription with Cockatoo
Get started free →
